منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں کورونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آگیا جانتے ہیں اس وقت مریض کو کہاں رکھا گیا ہے؟

datetime 20  فروری‬‮  2020 |

کراچی(آن لائن )کراچی میں چین سے پھیلنے والے موذی کورونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آگیا ۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق چند دن قبل چین سے واپس آئے 22 سالہ پاکستانی طالبعلم میں نوول کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں جس پر ڈاکٹروں نے اسے مشتبہ قرار دیتے ہوئے ڈاو یونیورسٹی اسپتال میں داخل کردیا۔

ذرائع کے مطابق مریض کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونوں کے ابتدائی طبی تجزیے نے ڈاکٹروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا جس کے بعد انہوں نے مریض کو تنہا رکھا اور مزید تصدیق کے لیے نمونے قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد روانہ کر دیئے ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد سے رپورٹ آنے کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہا جاسکے گا اس وقت تک مریض کو اکیلا رکھا جائے گااور اس ضمن میں تمام احتیاطی اقدامات کیے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ کورونا سے امریکا، برطانیہ، جاپان اور تھائی لینڈ سمیت 30 ممالک متاثر ہوئے ہیں جب کہ پاکستان میں اب تک کئی مشتبہ مریض سامنے آئے ہیں تاہم اب تک ان میں مہلک وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Civet Cats جسے اردو میں مشک بلاؤ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس وائرس کی ایک اور قسم سارس ہے جس سے 3-2002 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 800 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور یہ وائرس بھی چین سے پھیلا تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری انفلوئنزا یا فلو جیسی ہی ہے اور اس سے ابھی تک اموات کافی حد تک کم ہیں۔ماہرین کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق لوگوں کو بار بار صابن سے ہاتھ دھونے چاہئیں اور ماسک کا استعمال کرنا چاہیئے اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات استعمال کرنی چاہیئے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…