جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

جج کی اہلیہ اور بچوں سے جواب مانگے بغیر ریفرنس بنا دیا،اٹارنی جنرل بینچ سے متعلق اپنے بیان پر یا تو مواد پیش کریں یا معافی مانگیں، جسٹس فائز کیس میں سپریم کورٹ کے ریمارکس

datetime 19  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ بینچ سے متعلق اپنے بیان پر یا تو مواد پیش کریں یا معافی مانگیں۔سپریم کورٹ کے فل بنچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس فائز عیسیٰ اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کو برطانیہ کی جائیدادیں گوشواروں میں ظاہر کرنا چاہئیں تھیں، جسٹس قاضی فائز عیسی پر ریفرنس میں 2 الزام ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ گزشتہ روز بھی اِدھر اُدھر کی باتیں ہوئی، ہمیں کیس پر فوکس کرنا ہے، یہ دکھا دیں گے اہلیہ کے اثاثے دراصل معزز جج کے اثاثہ ہے۔جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ اگر جسٹس قاضی فائز عیسی گوشواروں میں پراپرٹی ظاہر کر دیتے تو کیا آپ ریفرنس دائر کرتے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گوشواروں میں پراپرٹی ظاہر کر دیتے تو ریفرنس نہ بنتا، گوشواروں میں پراپرٹی ظاہر نہ کرکے مس کنڈکٹ کیا، جسٹس قاضی فائز عیسی نے جائیدادیں تسلیم کر لی ہیں۔جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ میں اگر کوئی پراپرٹی ظاہر نہ کروں تو کیا میرے کیخلاف ریفرنس دائر ہوگا؟۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم پراپرٹی کی خریداری کے ذرائع کو بھی دیکھ رہے ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ ٹیکس کے معاملے کی انکوائری کے بغیر ریفرنس بنا دیا، کیا کوئی شخص اپنی اہلیہ اور بچوں کے غیر ملکی اثاثوں پر قابل احتساب ہے، کیا یہ ایک ایف آئی آر ہے یا صدارتی ریفرنس ہے؟ صدارتی ریفرنس ٹھوس مواد پر ہوتا ہے۔جج کی اہلیہ اور بچوں سے جواب مانگے بغیر ریفرنس بنا دیا، یہ دلائل کا طریقہ کار نہیں، تحریری طور پر اپنے دلائل دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سوالات کے آئندہ تاریخ پر جواب دوں گا، تحریری دلائل نہیں دے سکتا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اٹارنی جنرل نے بینچ کے حوالے سے گزشتہ روز کچھ بیان دیا، اٹارنی جنرل اپنے بیان کے حوالے سے مواد عدالت میں پیش کریں، اگر اٹارنی جنرل کو مواد میسر نہیں آتا تو تحریری معافی مانگیں۔

امید کرتے ہیں مطلوبہ دستاویزات پیش کی جائیں گی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ تیاری کے بغیر عدالت آ گئے ہیں، آپ ہمارا وقت خوبصورتی کے ساتھ ضائع کر رہے ہیں۔ کل آپ نے اتنی بڑی بات کر دی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ غیر ملکی اثاثوں کے حوالے سے قانون موجود ہے، وہ قانون بتائیں، اس قانون کا اطلاق ججز پر ہوتا ہے یہ بھی بتا دیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اس کیس کی سماعت میں اٹارنی جنرل انور منصور خان نے اپنے دلائل کے آغاز میں فل کورٹ کے سامنے ایسے بیان دیا، جسے بلاجواز اور انتہائی سنگین قرار دیا۔ عدالت نے میڈیا کو بھی اس بیان کی رپورٹنگ سے روکتے ہوئے بیان شائع کرنے سے منع کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…