منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

صنعتی شعبے کو سستی بجلی کی فراہمی کے لئے انقلابی قدم اٹھا لیا گیا، صنعت کاروں کو خوشخبری سنا دی گئی

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے میں صنعتکاری کے فروغ اور سرمایہ کاروں کو صوبے میں راغب کرنے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اُٹھارہی ہے اور صنعتی شعبے کو سستے داموں بجلی فراہم کرنے کیلئے ویلینگ رجیم کا معاہدہ اس ضمن میں انقلابی قدم ثابت ہو گا۔ حکومتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہداف کے حصول میں کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔

موجودہ صوبائی حکومت کی کامیاب حکمت عملی سے سستی بجلی پیدا کرنے والے چار بجلی گھروں سے پیدا کردہ 74 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی گئی ہے اور اس کا باقاعدہ وفاقی ادارےCPPA-G سے معاہدہ بھی کرلیا گیا ہے، جس سے صوبے کو 1.9 ارب روپے سالانہ آمدن ہوگی۔ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے پیڈو اور پیسکو حکام کے درمیان ویلینگ ماڈل کے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع مشیر توانائی حمایت اللہ خان،سیکرٹری توانائی محمدزبیرخان،چیف ایگزیکٹوپیڈوانجینئرنعیم خان اورپیسکوچیف ڈاکٹرامجدعلی خان سمیت دیگرحکام بھی موجود تھے۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواحکومت نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے تجرباتی طورپر صوبے کے اپنے وسائل سے تعمیرکردہ پیہورپن بجلی گھر سے 18میگاواٹ بجلی صنعتی شعبے کو سستے داموں فروخت کرنے کا ایک ماڈل تیارکیا ہے،جس سے صوبے کی پانچ صنعتی یونٹس جن میں گدون ٹیکسٹائل ملزلمیٹیڈ،چراٹ پیکجنگ لمیٹڈ،اے جے ٹیکسٹائل لمیٹیڈ،پریمیئرچپ بورڈ انڈسٹریزلمیٹیڈ اورچراٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹیڈ وغیرہ شامل ہیں، کو سستی بجلی فراہم کی جائے گی جس سے نہ صرف صوبے کو سالانہ 305ملین روپے کی آمدن ہوگی بلکہ 3ہزارلوگوں کو براہ راست روزگارملے گا۔ویلینگ ماڈل کے اس پائلٹ پراجیکٹ سے صنعتی شعبے کو ارزاں نرخوں پر بجلی دستیاب ہوگی جوکہ صوبے کی بیمارصنعتوں کی بحالی کی طرف بھی ایک مثالی اقدام ثابت ہوگا

اورآنے والے دنوں میں صوبے کے صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے بھی سنگ میل ثابت ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کا روز اول سے یہ منشوررہا ہے کہ صوبے میں پن بجلی کی پیداوارکے دستیاب قدرتی وسائل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لاکرسستی بجلی پیدا کی جائے تاکہ ملک کو درپیش توانائی کے بحران سے نکالاجاسکے۔یہ بات نہایت قابل فخرہے کہ ہماری حکومت نے توانائی ایکشن پلان پر بڑی تیزی کے ساتھ کام شروع کررکھاہے اورصوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے سرمایہ کاردوست توانائی پالیسی مرتب کررکھی ہے۔

اُنہوں نے واضح کیا کہ محکمہ توانائی وبرقیات صوبے کے مختلف اضلاع میں پانی کی نعمت سے سستی بجلی کی پیداوارکے متعدد منصوبے مکمل کرچکاہے اورکئی چھوٹے،درمیانے اور بڑے منصوبوں پرکام کررہاہے۔صنعتی صارفین کو ویلنگ ماڈل کے تحت بجلی کی فراہمی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا آغاز بہترین مثالیں ہیں جس سے نہ صرف صنعتوں کو ترقی ملے گی بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔اس موقع پر مشیر توانائی حمایت اللہ خان نے کہاکہ موجودہ حکومت نے پبلک سیکٹر ز میں چارنئے منصوبے پلان کئے ہیں جن میں بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، بری کوٹ،پترا ک شرینگل اور گبرال کالام ہائیڈر پاور پراجیکٹ شامل ہیں۔ ان منصوبوں پر رواں مالی سال کے دوران تعمیری کام شروع کر دیا جائیگا، جو 2025میں مکمل ہوں گے۔منصوبوں کی لاگت 1233 ملین ڈالر ہے جبکہ سالانہ متوقع آمدنی 17860ملین روپے ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…