اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

نعیم الحق کون تھے؟ عمران خان سے وہ ملاقات جو دوستی میں بدل گئی

datetime 15  فروری‬‮  2020 |

کراچی (نیوز ڈیسک) وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما نعیم الحق ستر برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ نعیم الحق کراچی میں 11 جولائی 1949ء کو پیدا ہوئے، نعیم الحق پیشے کے اعتبار سے بینکر اور کاروباری شخصیت تھے، وہ تحریک انصاف کے بانی کارکنوں میں شامل تھے، انہوں نے انگلش لٹریچر میں جامعہ کراچی سے ماسٹرز کیا۔

انہوں نے ایس ایم لاء کالج سے ایل ایل بی کیا۔ نعیم الحق نیویارک کے یو این پلازہ میں نیشنل بینک کی شاخ قائم کرنے والی ٹیم کا حصہ بھی رہے۔ نعیم الحق نے بطور مرچنٹ بینکر 1980ء میں لندن میں رہائش اختیار کر لی۔ وہ میٹرو پولیٹن سٹیل کے چیئرمین اور ایرو ایشیا کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر بھی رہے۔ نعیم الحق کی عمران خان سے 80 کی دہائی میں لندن میں قیام کے دوران ملاقات ہوئی جو بعد ازاں گہری دوستی میں تبدیل ہو گئی۔ نعیم الحق نے 1984ء میں ائیر مارشل اصغرخان کی تحریک استقلال جوائن کی اور برطانیہ سے واپس کراچی آ گئے۔ تحریک استقلال کے ٹکٹ سے انہوں نے 1988ء میں اورنگی سے انتخاب بھی لڑا۔ عمران خان کے ساتھ 1996ء میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ ان کی اہلیہ 2008ء کینسر کی وجہ سے فوت ہو گئیے اس کے بعد انہوں نے تمام تر توجہ تحریک انصاف پر مرکوز کر لی۔ کراچی میں ہونے والا عظیم الشان جلسہ جو کہ 25 دسمبر 2011ء کو ہوا اس کا تمام تر کریڈٹ بھی انہیں جاتا ہے۔ نعیم الحق پارٹی کی کور کمیٹی کا حصہ اور انفارمیشن سیکریٹری بھی رہے۔ 2018ء جنوری میں ان میں بلڈ کینسر کی تشخیص ہوئی۔ انہوں بیماری کی حالت میں انتخابات میں اپنی خدمات جاری رکھیں، تحریک انصاف کے جیتنے کے بعد انہیں عمران خان نے اپنا معاون خصوصی برائے سیاسی امور مقرر کیا لیکن وہ کینسر سے ہار گئے اور 15 فروری 2020ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…