پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

عالمی امدادی ادارے اوریونان میں معاہدے کے امکانات کم

datetime 19  جون‬‮  2015 |

ایتھنز(نیوزڈیسک)اہم اجلاس سے قبل یونان کی معاہدے کے لیے ناامیدی 18 جون 2015 شیئر  یونانی حکومت اور اس کے بین الاقوامی قرض خواہ معاہدے پر پہنچنے میں ناکامی پر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں یونان کے وزیرِ خزانہ یانس وروفاکس کا کہنا ہے کہ یہ ان کے ملک کی ’سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری‘ ہے کہ وہ قرضوں کے بحران پر اپنے عالمی قرض خواہوں سے کسی معاہدے پر متفق ہو جائے۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لگزمبرگ میں یورو زون کے وزارئے خزانہ کے اجلاس میں اس مسئلے کا فوری حل سامنے آنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ صحافیوں سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری کے تحت جلد از جلد اپنے شراکت داروں اور اداروں کے ساتھ ایک معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔‘ یورپی کمیشن، یورپی مرکزی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف یونان کو مزید رقم دے سکتے ہیں لیکن وہ اس کے لیے مزید اصلاحات اور کفایت شعاری کے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم یونان کی حکمران جماعت سریزا اس مطالبے کو ماننے کے لیے تیار نہیں جس کے نتیجے میں بات چیت ڈیڈ لاک کا شکار ہے اور یونان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ یونانی حکومت اور اس کے بین الاقوامی قرض خواہ مالی اصلاحات کے حوالے سے کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکامی پر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ ان مذاکرات کی ناکامی سے یونان کو بیل آؤٹ فنڈز سے دی جانے والی سات ارب بیس کروڑ یورو کی رقم رک گئی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق 30 ارب یورو بینک سے اکتوبر اور اپریل کے درمیان نکلوائے گئے ہیں جمعرات کو سب کی نظریں جرمنی کی چانسلر آنگیلا میرکل کے جرمن پارلیمان سے خطاب پر بھی لگی ہیں۔ جرمن چانسلر پر ان کی اتحادی حکومت کے ارکان یونان کے معاملے میں سخت موقف اپنانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ براعظم یورپ کے لیے میں بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس کا کہنا ہے کہ یونان اور اس کے قرض خواہ دونوں مخالف فریق کی جانب سے اگلا قدم اٹھائے جانے کے منتظر دکھائی دیتے ہیں اور اس صورتحال میں کسی غلط اقدام اور حد سے زیادہ تاخیر کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ خیال رہے کہ بدھ کو یونان کے مرکزی بینک نے پہلی بار خبردار کیا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے اور یورو زون اور یورپی یونین دونوں سے بے دخلی کے ’تکلیف دہ راستے‘ پر جا سکتا ہے۔ بینک آف گریس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے: ’کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکامی ایک تکلیف دہ سفر ہو گا جو ابتدائی طور پر یونان کو دیوالیہ کر دے گا اور آخرِکار ملک کو یورو زون اور ممکنہ طور پر یورپی یونین سے بے دخل کر دے گا۔‘ بینک کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے شراکت داروں کے ساتھ تاریخی معاہدے کی اشد ضرورت ہے جسے ہم نظر انداز کرنا گوارا نہیں کر سکتے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…