جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

معروف خاتون صحافی نے خودکشی کر لی

datetime 31  جنوری‬‮  2020 |

قاہرہ( آن لائن )مصری خاتون صحافی نے بند کمرے میں خودکشی کر لی۔تفصیلات کے مطابق خاتون گھر میں اکیلی تھی جب اس نے اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی کارروآئی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب پولیس کو بیان جمع کرواتے ہوئے خاتون کے شوہر نے بتایا کہ میں نے دفتر سے بار بار گھر فون کیا لیکن میرا اپنی بیوی سے رابطہ نہ ہو سکا۔اپنی بیون کا نام رحاب بنانے ہوئے

اس کا کہنا تھا کہ میں نے اس کو بار بار فون کیا لیکن جب بہت زیادہ وقت گزر گیا اور کسی قسم کا کوئی جواب نہ ملا تو میں پریشان ہوا ۔خاوند نے پریشانی کے باعث رحاب کی والدہ کو فون کیا جس پر ان کی جانب سے بھی یہی بتایا گیا کہ ان کا بھی رحاب سے رابطہ نہیں ہو رہا۔شوہر نے اپنی ساس کو کہا کہ وہ جنوبی قائرہ میں موجود ان کے گھر جائیں اور تحقیقات کریں کہ کیا ماجرا ہے۔والدہ جب گھر پہنچی تو بہت دیر انتظار کرتی رہیں لیکن دستک دینے پر بھی کسی نے دروازہ نہیں کھولا جس پر یہ بات ان کے لئے پریشانی کا سبب بنی۔ والدہ نے پڑوسیون سے مدد مانگی اور گھر کا دروازہ توڑا۔دروازہ ٹوٹتے ہی اسے سامنے اپنی بیٹی کی لاش ملی جس نے والدہ کو پریشان کر دیا۔پولیس کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گھر کے سارے دروازے اور کھڑکیاں اندر سے بند تھیں جس کا مطلب ہے کہ کوئی اندر نہیں آیا نہ ہی کوئی انہیں مار کر باہر گیا ہے۔پولیس کی جانب سے اسے خودکشی کا عمل قرار دیتے ہوئے وجہ دریافت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔خاوند کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ ہمارے درمیان ایسی کوئی بات نہیں ہوئی یا ایسا کوئی معاملہ رحاب کے ساتھ پیش نہیں آیا جس سے و ہ اتنا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی۔پولیس نے کارروآئی کا آغاز کر دیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ خودکشی کی وجہ جلد ہی سامنے آ جائے گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…