جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارت کا مکروہ چہرہ مزید آشکار، مسلم طالبات کے برقعہ پہننے پر پابندی عائد کردی گئی

datetime 25  جنوری‬‮  2020 |

بہار (این این آئی) بھارتی ریاست بہار میں کالج انتظامیہ نے مسلم طالبات کے برقعہ پہننے پر پابندی عائد کردی۔بہار کے دارالحکومت پٹنا کے جے ڈی ویمن کالج کی انتظامیہ نے طالبات کیلئے کالج کے احاطے میں نئے ڈریس کوڈ کا نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے مسلم طالبات پر برقعہ پہننے پر پابندی عائد کردی ہے۔کالج کے اس نئے قانون سے متعلق نوٹس پر کالج پروکٹر اور پرنسپل نے دستخط کیے۔ اس نوٹس میں طالبات کو نئے ڈریس کوڈ پر عمل کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے 250 روپے جرمانہ ادا

کرنا پڑے گا۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ’تمام طْلباء کالج میں پہلے سے طے کردہ ڈریس کوڈ کی پاسداری کریں گے جبکہ کالج میں برقعہ پہننے کی اجازت نہیں ہوگی، خلاف ورزی پر 250 روپے جرمانہ ہوگا۔نوٹیفکیشن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پہلے سے طے کردہ ڈریس کوڈ کیا ہے۔ کالج انتظامیہ کے اس حکم نامے کیخلاف کالج کے طالب علموں نے احتجاج بھی کیا۔علاوہ ازیں جب خبر میڈیا میں پہنچی اور اس حوالے سے کالج پرنسپل شیاما رائے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ کالج میں برقعہ پہننے پر پابندی کے آرڈر کو واپس لے رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…