جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

جرمانوں اور گندم نہ ملنے کی وجہ سے درجنوں چکیاں بند ہو گئیں،چکی مالکان بھی پھٹ پڑے، آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

datetime 23  جنوری‬‮  2020 |

حیدرآباد(این این آئی)حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں انتظامیہ کے چھاپوں، جرمانوں اور گندم نہ ملنے کی وجہ سے درجنوں چکیاں بند ہو گئی ہیں اور آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔سرکاری گندم کی قلت اور انتظامیہ کے چھاپوں کی وجہ سے سٹی،لطیف آباد قاسم اباد اور دیگر علاقوں میں بہت سی چکیاں بند ھو گئی ہیں،

محکمہ خوراک نے آٹا چکیوں کے فی پتھر یومیہ گندم کوٹہ میں معمولی سا اضافہ تو کر دیا ہے لیکن چکی مالکان کا کہنا ہے کہ سرکاری رعائتی گندم کا کوٹہ چکیوں کی طلب کے لحاظ سے 8 فیصد سے بھی کم ہے اس لئے وہ کھلی مارکٹ سے 5200 روپئے فی 100کی مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہیں اور اس صورت میں یہ ممکن نہیں کہ اٹا 52 روپئے فی کلو فروخت کیا جا ئے ، چکی مالکان کا کہنا ہے وہ انتظامی حکام کے چھاپوں اور جرمانوں کی وجہ سے چکیاں بند کرنے پر مجبور ہورہے ہیں جس سے اٹے کے بحران میں اضافہ ہو گا اور قیمتیں بھی بڑھیں گی ِ اس لئے چھاپوں کے بجائے چکیوں کی طلب کے مطابق سرکاری گندم کا کوٹہ فراھم کیا جائے ادھر رولر فلور ملز جنہیں بھولاری فوڈ گرین گودام سے گندم دی جارہی تھی۔اب انہیں حالی روڈ فوڈ گرین گودام سے بھی گندم فراھم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم معلوم ہوا ہے کہ ان گوداموں میں گندم کا ذخیرہ کم رہ گیا ہے۔چکی مالکان کا کہنا ہے کہ فی پتھر یومیہ 2400 سو کلو کی طلب کے مقابلے میں انہیں محض 7.25 فیصد سرکاری گندم کوٹہ جاری کیا جا رہا جو نا انصافی ہے،اور کھلی مارکیٹ سے مہنگی گندم خرید کر تیار کیا گیا اٹا سرکاری قیمت پر فروخت کرنا کیسے ممکن ہے،چکی مالکان کے مطابق چکیوں کو فی پتھر یومیہ صرف 140 کلو گندم جاری کرنے کے مقابلے میں رولر فلور ملز کو روزانہ تقریبا 50 ہزار کلو سرکاری گندم جاری کی جاتی ہے اور پھر بھی چھاپے آٹا چکیوں پرہی مارے جا رہے ہیں اس طرح ہمیں چکیاں بند کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…