بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پورا نظام آئی ایم ایف کے کلرکوں کے حوالے کردیاہے، منسٹر سے کچھ پوچھ  لیا جائے تو وہ بغلیں کیوں جھانکنے لگتے ہیں، سوالیہ نشان کھڑا کر دیا گیا

datetime 21  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد/ لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک پر مسلط کی گئی حکومت اتنی نااہل ہے کہ خو د کچھ کرنے کی بجائے اس نے پورا نظام آئی ایم ایف کے کلرکوں کے حوالے کردیاہے ۔ منسٹر بغیر تیاری کے ایوانوں میں آتے ہیں ان سے کچھ پوچھ لیا جائے تو وہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں ۔ حکمران جو وعدے کرتے ہیں ، وہ پورے نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ

ہر گزرتے دن کے ساتھ حکومت کی اقتدار پر گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے سینیٹ اجلاس کے بعد پارلیمانی رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم کے کہنے کے مطابق ان کی تنخواہ میں گھر کا خرچہ بھی پورا نہیں ہورہا ، یہ وزیراعظم کی طرف سے شکست کا اعتراف ہے ۔ اگر کسی ملک کے وزیراعظم خود بد حال ہوں تو عام آدمی کا کیا ہوگا ۔ وزیراعظم بتائیں کہ جس خاندان کے آٹھ دس افراد ہیں ، وہ کیسے گزار ا کرے گا۔ اگر وزیر اعظم کا دو لاکھ میں گزار نہیں ہوتا تو پندرہ بیس ہزار روپے تنخواہ لینے والے کا گزارہ کیسے ہوسکتاہے ۔ معیشت کا بیڑا غرق کرنے والی معاشی ٹیم کو وزیراعظم سلام پیش کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے اور حقائق سے چشم پوشی کر رہی ہے ۔ جھوٹ اور مس مینجمنٹ کی بنیاد پر نہ سیاست چلتی ہے اور نہ حکومت ۔ موجودہ حکومت او رسابقہ حکمران پارٹیوں کا عوام کے مسائل پر نہیں ، اپنے مفادات پر اتفاق ہواہے ۔ ہمیں خوشی ہے کہ تینوں حکمران پارٹیاں اب ایک پیج پر آ گئی ہیں ۔ وفاقی وزراء اعتراف کرتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ گندم موجود ہے جبکہ عوام کو آٹا نہیں مل رہا اگر ملتابھی ہے تو 70 روپے کلو ، یہ حکمرانوں کی نااہلی نہیں تو کیا ہے ۔ وفاقی حکومت کہتی ہے کہ صوبوں نے ہمیں درست معلومات نہیں دیں ۔ غلط معلومات پر یہ غلط منصوبہ بندی کرتے ہیں جس کے نتائج عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں ۔ گیس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے مگر لوڈ شیڈنگ میں کمی نہیں آتی ۔آٹے کے بعد

اب چینی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ، ایک اور بحران سر اٹھا رہاہے مگر حکمران اسی طرح غفلت کا شکار ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ غربت مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل نے ملک کو گھیر رکھاہے ۔ پی ٹی آئی کے آنے کے بعد غربت کی شرح میں اضافہ اور معیشت کی شرح نمو میں کمی آئی ہے ۔ ملک میں اب 70 فیصد لوگ روز کماتے اور روز کھاتے ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے

لڑھک گئے ہیں ۔ خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں مل رہا ۔ پندرہ ماہ میں حکومت نے عوام کو پریشانیوں اور مصیبتوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔ بے روزگار نوجوان پریشان حال اور اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں ۔ پچاس لاکھ گھروں کی بات کرنے والے تیس ہزار بے گھر سرکاری ملازمین کو بھی گھر نہیں دے سکے ۔ حکومت صرف نعرے لگااور سبز باغ دکھا رہی ہے ، عملاً کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…