جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

آسٹریلیا میں جنگلاتی آگ کے بعد سیلاب نے نئی تباہی پھیلادی

datetime 19  جنوری‬‮  2020 |

کینبرا(این این آئی)آسٹریلوی ریاستوں نیو ساؤتھ ویلز، کوئینزلینڈ اور وکٹوریہ کے کچھ علاقوں میں طوفانی بارشوں نے جنگلاتی آگ تو بجھا دی ہے لیکن یہ سیلاب کا سبب بھی بن گئیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق حکام نے بتایا کہ آسٹریلیا کی متعدد ریاستوں میں طوفانی بارشوں نے ایک نئی تباہی پھیلا دی ہے۔ اس وسیع و عریض ملک کے امدادی کارکنوں کو اب جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ سیلابی ریلوں کی تباہ کاریوں سے بھی نمٹنا ہو گا۔

حکام نے بتایا کہ شدید ترین بارشوں کی وجہ سے کوئینز لینڈ میں سب سے زیادہ نقصان ہوا، جہاں کئی گاڑیاں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں۔آسٹریلوی ریاست نیو ساوتھ ویلز میں 4.9 ملین ہیکٹر علاقہ جنگلاتی آگ سے متاثر ہوا ہے اور اب اس ریاست میں شدید بارش اور خراب موسم کے باعث بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اس ریاست کے شہری قبل ازیں جنگلاتی آگ کی وجہ سے بارش کی دعائیں کر رہے تھے۔فائر فائٹرز کے مطابق آگ سے متاثرہ اس ریاست کے بالخصوص جنوبی ساحلی علاقوں میں ابھی تک نمی کا کوئی نشان نہیں ہے۔ ان علاقوں میں ابھی بھی 75 مقامات ایسے ہیں، جو آگ کی لپیٹ میں ہیں جبکہ پچیس مقامات پر لگی ہوئی آگ ابھی تک بے قابو ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…