بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

آزاد کشمیر میں 12سالہ لڑکی مسلسل18گھنٹے برف کے نیچے دفن رہنے کے بعد زندہ سلامت مل گئی

datetime 16  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آزاد کشمیر میں ایک 12 سالہ بچی 18 گھنٹے برف میں دفن رہنے کے بعد زندہ مل گئی، 12 سالہ کشمیری بچی بدھ کے روز مسلسل 18 گھنٹے تک برف کے نیچے دبی رہی، متاثرہ لڑکی کے گھر پر برفانی تودہ گرنے سے گھر والے بھی متاثر ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں ایک گھر میں برفانی تودا گرنے سے پورا خاندان متاثر ہوا جس میں حیران کن طور پر ایک 12 سالہ بچی جو کہ شدید سردی میں مسلسل 18 گھنٹے تک برف کے نیچے دفن رہی، اس کو امدادی کارروائی کے دوران زندہ بچا لیا گیا۔12 سالہ ثمینہ جب کمرے میں برف کے نیچے دبی ہوئی تھی تو وہ مدد کے لیے چلاتی رہی تاہم کسی کو بھی اس کی آواز سنائی نہ دی، متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ سو نہیں سکی اور امدادی ٹیم کا انتظار کرتی رہی، لڑکی نے بتایا کہ اس کی ٹانگ ٹوٹ چکی تھی اور اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ثمینہ نے گفتگو میں بتایا کہ وہ زندہ رہنے کی امید کھو چکی تھی اور اس کا خیال تھا کہ وہ برف کے نیچے ہی مر جائے گی، تاہم خوش قسمتی سے اسے بچا لیا گیا۔ متاثرہ لڑکی کی ماں شہناز کا کہنا ہے کہ برفانی تودا اچانک گرا اور اس نے انہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا، ان کا کہنا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے برفانی تودے نے 3 منزلہ مکان کو تباہ کر دیا، کم از کم 18 لوگ اس حادثے میں جاں بحق ہوئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…