بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن مکمل نہ کر سکنے والے ملکوں کے درمیان صلح کروانے کے دعوے کر رہے ہیں، بوٹ پالش کو موضو ع بنا کر کسے بے توقیر کیا جا رہا ہے؟ سراج الحق نے کھری کھری سنا دیں

datetime 15  جنوری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن مکمل نہ کر سکنے والے ملکوں کے درمیان صلح کروانے کے دعوے کر رہے ہیں، وفاقی کابینہ اجلاسوں میں عوام کی پریشانیوں کے حل کی بجائے تصویروں پر بحث کر رہی ہے،بعض لوگ اداروں کو متنازعہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں، بوٹ پالش کو موضو ع بنا کر سیاست اور جمہوریت کو بے توقیر کیا جارہا ہے،

چور چوری، ظالم ظلم اور کرپٹ کرپشن ختم نہیں کر سکتے، اختیارات دیانتدار لوگوں کے ہاتھ آئیں گے تو ملک سے چوری، ظلم و جبر اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ لاجز میں پنجاب اسمبلی کے رکن معاویہ اعظم طارق کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ حکومت بھی بے سمت آگے بڑھ رہی ہے۔ حکومت کا کوئی ایجنڈا اور پالیسی واضح نہیں۔ حکمران آئین و قانون کی ان دفعات پر عمل کرتے ہیں جن میں ان کے اختیارات میں اضافے کی بات ہوتی ہے۔ عوام کے مسائل اور مشکلات سے حکومت کو کوئی سروکار نہیں اور نہ عوام کو موجودہ حکمرانوں سے کوئی ریلیف مل سکتاہے۔ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ دال سبزی بھی اب لوگوں کی پہنچ میں نہیں رہی۔ آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیاہے۔ غربت کے مارے عوام دن رات حکمرانوں کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دے رہے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں قانون سازی ہوتی نہیں اور اگر ہوتی بھی ہے تو موجودہ حکومت اس پر عمل درآمد نہیں کرتی۔ حکومتوں نے ملک میں شریعت کا نفاذ نہ کر کے پاکستان کے نظریے اور جغرافیے دونوں کو نقصان پہنچایا۔ اگر تحریک پاکستان کے مقاصد کو آگے بڑھایا جاتا اور قیام پاکستان کے حقیقی تصور پر عمل کیا جاتا تو ملک دو لخت ہوتا اور نہ آج ہمیں عالمی استعماری قوتوں کے اشاروں پر چلنا پڑتا۔ انہوں نے کہاکہ نظریہ پاکستان سے بے وفائی کرنے والوں نے قوم کی امنگوں کا خون کیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…