جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

عراق حملے پر خاموشی، امریکی اڈے پر ایرانی حملے کی مذمت، سعودی عرب کو امریکہ کا غلام قرار دیدیا گیا

datetime 12  جنوری‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) وفاق المدارس شیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید قاضی نیاز حسین نقوی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے عراق پر دو امریکی حملوں پر خاموشی اور امریکی اڈے پر ایرانی حملے کی مذمت سے ثابت ہوگیاکہ وہ حرمین کی بجائے امریکہ کا غلام ہے۔ اعلیٰ عراقی عسکری عہدیدار اور شہریوں کی شہادت پر سعودی حکومت نے افسوس کا ایک لفظ تک نہ کہا لیکن ایران کے انتقامی اقدام کی مذمت کر کے امریکی مفادات کی ترجمانی کی گئی۔

جوکہ ایک اہم اسلامی ملک کی طرف سے قابل مذمت اور افسوسناک ہونے کے ساتھ سعودی شاہی خاندان کی امریکی خدمات اورغلامی کا ثبوت بھی ہے۔ جامعتہ المنتظر میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراق پر ہونے والے حملوں کا جواب نام نہاد اسلامی عسکری اتحاد کا فرض تھا مگر افسوس اسے یمن کے مظلوم عوام کے قتل عام سے فرصت ہی نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی غلامی کے طوق میں جکڑے آل سعود اسلامی غیرت کے ساتھ روایتی عرب حمیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں فلسطین و عراق کی زبانی حمایت کی جرائت بھی نہیں ہے۔علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ عالم اسلام کے مسائل اور بحرانوں پر امریکہ،اسرائیل اور سعودی عرب کی ہم فکری بہت بڑاسانحہ ہے جس سے اسلامی دنیا کے علاوہ سعودی عرب کے عوام اور ذمہ دار علماء بھی بیزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن طاقتوں کے ترجمان سعودی عرب کے زیر اثر اوآئی سی کی بجائے کوالالمپور سمٹ کی سفارشات ہی مسلمانان عالم کے مفادات کی ضمانت ہیں۔ان پر عمل درآمد ہونا چاہئے۔جبکہ اقوام عالم کو مشرق وسطیٰ میں ہونے والے امریکی دہشت گردی کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ وفاق المدارس الشیعہ کے نائب صدرنے کوئٹہ کی مسجد میں نماز کے دوران ہونے والی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات اسلام کو ماننے والا نہیں کرسکتا۔ دہشتگرد کااسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ان سفاک یزیدوں کے خلاف سیکورٹی اداروں کو سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…