بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

ملک کے 10 بینکوں نے پی سی آر ایل قائم کرنے کیلئے سمجھوتے پر دستخط کردئیے،معاہدے کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں

datetime 11  جنوری‬‮  2020 |

کراچی( آن لائن ) ملک کے 10 بینکوں نے پاکستان کارپوریٹ ری انسٹرکچرنگ کمپنی لمیٹڈ (پی سی آر ایل) قائم کرنے کے لیے سمجھوتے پر دستخط کردیے۔کارپوریٹ ری انسٹرکچرنگ کمپنیز ایکٹ 2016 کے تحت ابتدائی طور پر 50 کروڑ روپے کی ادائیگی سے کارپوریٹ اسٹرکچرنگ کمپنی (سی آر سی) قائم کرنے کا فیصلہ کیا جو ملک میں اپنی طرز کی پہلی کمپنی ہوگی۔اس سلسلے میں حبیب بینک، نیشنل بینک،

یونائیٹڈ بینک، ایم سی بی بینک، الائیڈ بینک، بینک الفلاح، بینک الحبیب، حبیب میٹرپولیٹن بینک اور فیصل بینک کے صدور اور نمائندگان نے اسٹیٹ بینک ہیڈ کوارٹر میں شیئر ہولڈر معاہدے پر دستخط کیے۔مذکورہ کارپوریٹ ری انسٹرکچرنگ کمپنی بحران کا شکار صنعتی یونٹس کی بحالی میں حکومت کی مدد کرے گی۔سی آر سی ایکٹ 2016 کے تحت سی آر سی کو مالیاتی اداروں کے غیر فعال اثاثوں کی تشکیل نو، بحالی اور حصول کا اختیار حاصل ہے اور مالی یا تجارتی مشکلات کا شکار کمپنیوں کی تنظیم نو اور احیا کا مجاز بناتا ہے۔خیال رہے کہ سی آر سی ایسے خصوصی ادارے ہوتے ہیں جن کے پاس نان پرفارمنگ لونز (این ایل پیز) کے حل اور کارپوریٹ تنظیم نو کی مہارت ہوتی ہے۔یہ کمپنیاں ایل پیز اکٹھا کرنے کے ذریعے اس بہتر پوزیشن میں ہوتی ہیں کہ بحران کا شکار اداروںسے مذاکرات کرسکیں اور قڑض دہندگان اور قرض خواہوں سے بات چیت کر کے قرض کی تنظیم نو کی جائے۔توقع کے مطابق سی آر سیز ایک متحرک معاشی ایجنٹ کی حیثیت سے ابھرے گا اور مشکلات کا شکار صنعتوں کو بحال کرنے میں مدد کر کے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گا۔واضح رہے کہ 30 ستمبر 2019 تک بینکنگ سیکٹر کا مجموعی نان پرفارمنگ قرض 7 کھرب 58 لاکھ روپے تھا۔اس رقم میں بدحال صنعتی یونٹس کے لیے گئے قرض بھی شامل ہیں جنہیں بحال کیا جاسکتا ہے۔سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان نے پی سی آر سی ایل کو 31 دسمبر 2019 کو لائسنس جاری کیا تھا۔دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عہدیدار نے پی سی آر سی ایل کو شامل کرنے اور لائسنس دینے میں ریگولیٹر کا معاون کردار کرنے، متعلقہ قوانین میں ترامیم اور بینکنگ کورٹس کو مضبوط بنانے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ منسلک ہونے پر بینکس کو سراہا تاکہ حکومت کے اداراہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل ہوسکے۔‎

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…