جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

پاکستان ہمیشہ کیلئے چھوڑنا چاہتا ہوں،حامد میر نے جب یہ بات فخرالدین جی ابراہیم کو کہی تو جانتے ہیں آگے سے انہوں نےکیا جواب دیا؟

datetime 9  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی اور سینئر تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ 14 اپریل 2014 میں جب مجھ پر حملہ کیا گیا تو معروف قانون دان و سابق الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم ہسپتال میں میری عیادت کیلئے آئے۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ اس دن کچھ لوگ مجھے پاکستان چھوڑ جانے پر مجبور کرر ہے تھے۔

تاہم فخرالدین جی ابراہیم نے مجھ سے سوال کیا کہ باہر جا کر کیا کرو گے؟ جس پر ردعمل دیتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ایک کتاب لکھوں گا۔حامد میر نے کہا کہ فخر الدین جی ابراہیم نے مجھے کہا کہ جانتا ہوں تم باہر جاوٴں گے تو بہت پیسہ کمائو گے اور تمہاری کتاب بھی سپر ہٹ جائے گی۔ تاہم تمہارے باہر چلے جانے سے تمہارا پاکستان سے رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ اس وقت جب کچھ لوگ مجھ پر دباوٴ بڑھا رہے تھے فخروالدین جی ابرا ہیم نے بیٹا کہتے ہوئے میرا ماتھا چوما اور مجھے اپنا فخر قرار دیا۔حامد میر کا کہنا ہے کہ فخر الدین کے ہسپتال سے جانے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں پاکستان کو چھوڑ کر نہیں جاوٴں گا اور ڈاکٹر انعام پال کو آگاہ کیا۔ جس کے بعد انہوں نے مجھ پر ایک صاحب سے ملاقات پر پابندی لگا دی۔اس تحریر کے حوالے سے حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ پر ٹویٹ بھی کیا اور کہا کہ فخرالدین جی ابراہیم ملک سے محبت نہیں بلکہ پرستش کرتے تھے۔ مجھے کہا تھا کہ تم اپنے تمام دشمنوں کا منہ کالا کرسکتے ہو ، تم ملک سے باہر چلے گئے تو پاکستان سے تمہارا رشتہ ٹوٹ جائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…