جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم کا حصول عام شہریوں کے لیے تذلیل کا سبب بن گیا،بوڑھی خواتین کے ساتھ کیاکام کیا جا رہا ہے؟ درجنوں خواتین نے حکومت کے نام پیغام جاری کر دیا

datetime 29  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رقم کا حصول عام شہریوں کے لیے تذلیل کا سبب بننے لگا ہے،رقم کے حصول کے لیے دور دراز کے علاقوں میں فرنچائز بنا کر بوڑھی خواتیں کو بے جا تنگ کیا جانے لگا ہے۔غریب ہونا جرم نہیں،غربت کا مذاق اڑانا کسی صورت برداشت نہیں ہو سکتا،درجنوں خواتین کا حکومت کے نام پیغام۔انتہائی معتبر ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ حکومت نے

نام نہاد سروے کے نام پر گزشتہ چھ ماہ سے ایک تو امداد نہ دی دوسرا تذلیل آمیز رویوں نے مار ڈالا ہے،بھکر،لیہ میں درجنوں غریب غیر مندوں نے اس تذلیل آمیز چند ہزار کو ٹھکراتے ہوئے حکومت کو کہا کہ یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو وہ کسی صورت بھی امداد کی رقم وصول نہ کریں گے۔معلومات کے مطابق بھکر کے علاقہ بہل،نوتک،کروڑ،لیہ،چک بلوچاں،بستی ملوک،بہاونپور،کندانی،جوائی شاہ،چھینہ،رضائی شاہ،کہاوڑ کلاں،پنجگرائیں،دریاخان،ودیگر درجنوں شہروں سے پرانی فرنچائز کو ختم کرکے نئی آلاٹ کی گئی ہیں جنہوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کرتے ہوئے فی کس ایک سو روپے سے پانچ سو روپے تک فیس اکٹھی کر کے وصو ل کی جانے لگی ہے اور صبح سے لیکر شام تک عام بستیوں اور شہروں میں خواتین کا رش لگا رہتا ہے جس کے باعث اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہماری غربت کا نہ صرف مذاق اڑایا ہے بلکہ یہ رویہ تذلیل آمیز ہے اور وہ ایک نہیں کئی کئی چکر لگانے پڑتے ہیں اور چھ ماہ کے بعد پہلی قسط کے حصول کے لیے خوار ہونا پڑ رہا ہے،اس موقع پر امان اللہ،قیصر خان،ذیشان و دیگر کا کہنا ہے کہ وہ کئی گھنٹوں سے اپنے بزرگ خواتین کے ہمراہ سینٹرز پر آئے ہوئے ہیں اور یہ انگوٹھا کا نشان لگا کر پھر رقم دوسرے دن دینے کی حامی بھرتے ہیں اور یہ سینٹرز بھی ایسے نامعلوم علاقوں میں بنائے گئے ہیں جہاں جانا تو درکنا ر کوئی پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہیں چل رہی اور عموماٗ غریب افراد کو مہنگا کرایہ لگا کر جانا پڑتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…