جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی آئی حکومت نوکریاں دینے کے بجائے چھننے پر تل گئی ،اہم ادارے سے بڑے پیمانے پرملازمین کو نکالنے کا فیصلہ بدلے میں گولڈن ہینڈ شیک سکیم کے طورپر کیا دیا جائیگا؟جانئے

datetime 26  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت نے گزشتہ برس کیے گئے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے 400 ریگولر ملازمین کی ملازمتیں گولڈن ہینڈ شیک سکیم کے ذریعے ختم کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کرلی۔

روزنامہ جنگ کے مطابق، اس منصوبے پر 31 جنوری،2020 تک عمل درآمد کردیا جائیگا۔اس حوالے سے فہرستوں کو حتمی شکل دے کر پی ٹی ڈی سی کے اعلیٰ حکام کو بھجوایا جاچکا ہے۔جب کہ دوسری جانب پی ٹی ڈی سی ایمپلائز یونین کے نمائندگان این آئی آر سی سے حکومتی فیصلہ بشمول پی ٹی ڈی سی ریگولر ملازمین کی ملازمتیں ختم کرنے سے متعلق حکم امتناع حاصل کرچکے ہیں۔صدر ایمپلائز یونین ماجد یعقوب نے بتایاکہ این آئی آر سی نے حکومتی فیصلے کے خلاف پی ٹی ڈی سی ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا پہلا منصوبہ فیصلے کے خلاف مزاحمت کرنا تھا۔ماجد یعقوب نے بتایا کہ حکومت نے پہلے 137 ملازمین کو نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔تاہم نئے منصوبے کے تحت 400 ملازمین کو نکالا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت گولڈن ہینڈ شیک اسکیم کا اطلاق کرنا چاہتی ہے مگر پی ٹی ڈی سی میں 20سال سے زائد خدمات ادا کرنے والے ملازمین کو اضافی رقم کے طور پر تین بنیادی تنخواہیں ، پروویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی کے بقایا جات ہی ملیں گے۔حکومت نے اقتدار میں آتے وقت ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اب وہ پی ٹی ڈی سی ملازمین کو ہی نوکری سے نکال رہی ہے۔

یونین نمائندگان اور ملازمین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے منصوبے کو ملازمین کے حق میں تبدیل کرےجو بےروزگار ہوکر مالی مسائل کا شکار ہوجائیں گے۔ جب ترجمان مختار احمد سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس مسئلے پر کسی بھی قسم کی رائے دینے سے انکار کردیا۔تاہم، مینجنگ ڈائریکٹر ، سید انتخاب عالم نے اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ فیصلے کو حتمی شکل دی جاچکی ہےاور گولڈن ہینڈ شیک اسکیم کے تحت 300 سے زائد ملازمین کو نوکری سے نکالا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ ملازمین کو ہینڈ شیک اسکیم کے تحت تین اضافی تنخواہیں دی جائیں گی ۔ان کا کہنا تھا کہ یونین نمائندگان فیصلے کے خلاف حکم امتناع لے چکے ہیں ۔اس لیے اب ہم اپنا موقف این آئی آر سی کو پیش کریں گے تاکہ فیصلے پر عمل درآمد کی وجوہات بتاسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ منصوبے پر عمل درآمد سے قبل ہی کابینہ اجلاس میں تفصیلی طور پر اس کی وضاحت کردی گئی تھی۔حکومت سیاحتی شعبے کی تنظیم نو اور بحالی کے لئے پرعزم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ملازمین کا حق ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف مزاحمت کریں ۔تاہم یہ فیصلہ سیاحت کے بہترین مفاد میں کیا گیا ہے ، جس میں اس کی تنظیم نو بھی شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…