پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

زندگی موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، جج نے مشرف کے مرنے کے بعد کی بھی سزا سنا دی، اگر کسی جج کے خلاف ایسا فیصلہ آیا تو کون اس پر عملدرآمد کرے گا، چودھری شجاعت کا چبھتا ہوا سوال

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن)پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایسا ظالمانہ فیصلہ مار شل لاء کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا جیسا موجودہ دور میں ہوا ہے، ایک جج یہ بھول گیا کہ زندگی اور موت سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، مرنے کے بعد کیا ہوگا اس کا فیصلہ بھی جج صاحب نے کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر جج کے خلاف ایسا کوئی فیصلہ آجائے تو کیا تب ان کیلئے بھی ایسے ہی حکم پر عملدرآمد کیا جائے گا، فیصلہ اس لئے کیا گیا کہ آئندہ مارشل لاء نہ لگے لیکن اس فیصلے کے الفاظ کے بعد ملک میں موجودہ صورتحال سے نمٹنے والی فوج کا مورال کس قدر ڈاؤن ہوا ہے ملک میں پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال سے پاکستان اور اس میں رہنے والے لوگوں کو تکلیف ہوئی ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ملک کی حفاظت کیلئے لاکھوں سپاہی اپنے سپہ سالار کے کہنے پر گولی کھانے اور چلانے کیلئے تیار ہوتے ہیں، جج کے اس فیصلہ سے فوجی جوانوں اور پوری قوم کو سخت تکلیف ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے قانون دان اور وکلاء قانونی پیچیدگیوں میں پڑ رہے ہیں مگر یہ کوئی نہیں سوچ رہا کہ جس فوجی افسر کیلئے لاکھوں سپاہی گولی کھا سکتے ہے اس کے سپہ سالار کو غدار کہا گیا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ پاکستان ایک اسلامی اور مہذب ملک ہے یہاں بسنے والے لوگ اسلامی اور معاشرتی طور پر باشعور لوگ ہیں، زیر نظر فیصلے نے ان سب کی منافی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں High Treason کا معنی کیا ہے؟ جج نے کہا کہ مرنے کے بعد اس کی لاش کو گھسیٹا جائے کیا یہ مطلب ہے؟ آئین کے کسی پیراگراف میں ایسا لکھا ہو تو بتا دیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…