جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس صاحب! آپ کے بعد اللہ کی عدالت ہوگی،جانتے ہیں وکلاء گردی کے بعد آصف سعید کھوسہ کو کس نے دو ٹوک پیغام دیدیا؟

datetime 16  دسمبر‬‮  2019 |

اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر تجزیہ کار وبیرسٹر سعد رسول نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے نام کھلا خط لکھ دیا ۔تفصیلات کے مطابق سعد رسول نے کھلے خط میں کہا کہ توہین عدالت کے خوف سے لوگوں نے مجھے کھلا خط نہ لکھنے کا مشورہ دیا۔

سعد رسول نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کے بعد اللہ کی عدالت ہوگی ۔چیف جسٹس ہونے کے ناطے پاکستان میں انصاف کے قیام کیلئے سب سے پہلا نمبر آپ کا ہے۔ آپ کی عدالت کے بعد اللہ کی عدالت ہوگی ، قیامت کے روز آپ پہلے چند لوگوں سے ہوسکتے ہیں، جن پر خاموشی سے ظلم دیکھنے کا الزام ہوگا۔ سعد رسول نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی سی میں قیامت صغریٰ دیکھنے والا نوجوان آرٹیکل 3-184کی طاقت استعمال نہ کرنے پر آپکا نہایت مشکور ہے۔بیرسٹر سعد رسول نے چیف جسٹس کے نام کھلے خط میں لکھا کہ اس خط کو اپنے لیے اور اپنی عقل و دانش کیلئے سیلوٹ سمجھیں ۔ اس یقین کے ساتھ کہ آپ نے چند ہفتوں قبل  ٹھیک کہا تھا کہ عدالت کا کام انصا ف دینا نہیں قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے۔ سعد رسول نے کہا کہ چیف جسٹس نے اپنے دور کی کسی وکلاء گردی کا نوٹس نہیں لیا۔ انہوں نے لکھا وکلاء جوڈیشری کی اصل طاقت،وکلاء کے بغیر ریفارمز ممکن نہیں۔جو لوگ آپ سے اختلاف کرتے ہیں گمراہ اور جاہل ہیں۔ سعد رسول نے کہا کہ سوموٹو کا اختیار ہی آئین سے ختم کردیں تاکہ کوئی بھی آپ کی طرف نہ دیکھے، لیکن رہنے دیں ،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے عظیم مسئلے کو حل کرنا پڑ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…