جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں 128 روز بعد ایس ایم ایس سروس جزوی بحال شہری موبائل فون پر میسج صرف وصول کر سکیں گے لیکن کیا نہیں کر سکتے ؟ افسوسناک صورتحال

datetime 11  دسمبر‬‮  2019 |

سرینگر( آن لائن ) مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارت نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور وادی میں 4 ماہ سے زائد عرصے کے بعد موبائل فون پر ایس ایم ایس جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے

مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے جس کے باعث مواصلاتی نظام، تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق  مقبوضہ کشمیر میں موبائل انٹرنیٹ سروس اب بھی معطل ہے جب کہ  چار ماہ بعد صرف اِنکمنگ ایس ایم ایس سروس بحال کر دی گئی ہے۔بھارتی حکام کے مطابق  مقبوضہ کشمیر میں شہری موبائل فون پر میسج وصول کر سکیں گے مگر اپنے موبائل فون سے اب بھی ایس ایم ایس نہیں بھیج سکیں گے۔یاد رہے کہ 14 اکتوبر کو بھی مقبوضہ کشمیر میں 72 روز سے بند موبائل فون سروس جزوی طور پر بحال کر دی گئی تھی جسے کچھ گھنٹوں بعد ہی واپس بند کر دیا گیا تھا جب کہ وادی میں انٹرنیٹ سروس بدستور  بند ہے۔بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔بھارت نے یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے۔بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…