منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ای گورننس کے نام پر 7  ارب 80 کروڑ فنڈز ہضم کرنے کا پروگرام،تمام وزارتوں اور ڈویڑنوں سے پیپرز ورک ختم، اربوں کی خریداری متوقع

datetime 8  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی حکومت میں ای گورننس نظام کے نفاذ پر  سات ارب اسی کروڑ روپے کی خطیر فنڈز خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور عمران خان حکومت کا یہ پہلا بڑا منصوبہ سامنے آیا ہے اس نئے نظام کے تحت تمام وزارتوں اور ڈویڑنوں میں پیپرز ورک ختم ہو جائے گا

اور حکومتی امور کمپیوٹر پر حل کئے جائیں گے اس مقصد کے لئے وفاقی حکومت کے تمام ملازمین کو آئی ٹی کی تربیت بھی دی جائے گی اور یہ ذمہ داری اب وزارت آئی ٹی کے حوالے کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ تمام وزارتوں اور وفاقی ڈویڑنوں کو جدید تکنیکی آلات جس میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ کنکشن، ٹیب اورسوفٹ ویئر خریدے جائیں گے جس پر آئی ٹی وزارت اربوں روپے اپنی صوابدید پرخرچ کریں گے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت آئی ٹی کے اعلیٰ حکام نے ہزاروں کمپیوٹرز کی خریداری اپنی من پسند کمپنی کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ جس کے نتیجے میں بھاری کمیشن اور کک بیکس حاصل کئے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے اور تمام خریداری کے لئے متعلقہ کمپنیوں سے انڈر ہینڈ ڈیل بھی ہو چکی ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ اربوں روپے کی کرپشن کی خاطر اربوں کی خریداری میں مختلف مراحل میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ پیپرا رولز کی پاسداری سے آزاد ہو سکے وزارت آئی ٹیم ایم کیو ایم کے مقبول صدیقی کے پاس ہے جبکہ اس وزارت کا سیکرٹری شعیب صدیقی ہے یہ دونوں وزارت میں مختلف نوعیت کی کرپشن اوربدعنوانی میں ملوث رہے ہیں اور نیب حکام ان کیخلاف تحقیقات بھی کر رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ سات ارب اسی کروڑ کی خریداری میں یہ لوگ یہ گل کھلاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…