منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کو ایک اور جھٹکا،اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا،نوٹیفیکیشن جاری

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) اوگرا نے ماہ دسمبر 2019 کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیاجس کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں 2روپے فی کلو،گھریلو سلنڈر18روپے اور کمرشل سلنڈرکی قیمت 72روپے اضافہ کے بعد اوگرہ نے ماہ دسمبر کیلئے نئی قیمتیں جاری کر دیں۔اب ایل پی جی فی کلو 127 کی جگہ 129 روپے فی کلو اور گھریلو سلنڈر 1496روپے کی

جگہ 1514 روپے اور کمرشل سلنڈر 5756روپے کی جگہ 5825روپے ملک بھر میں فروخت ہو گی۔بلیک مارکیٹنگ مافیا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا گیا۔ اوگرا نوٹیفکیشن میں متعین کردہ قیمت سے زیادہ قیمت پرایل پی جی فروخت کرنے والے ڈِسٹری بیوٹرز کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ایل پی جی انڈسٹری ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھرنے ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شخص اوگرا نوٹیفکیشن میں متعین کردہ قیمت سے زیادہ قیمت پر ایل پی جی کسی صورت فروخت نہ کرے۔ سردیوں میں ایل پی جی کا شارٹ فال نہیں ہو گا اور ملک بھر میں وافر مقدار میں گیس دستیاب رہے گی۔ ایل پی جی کے کاروبار میں پولیس کی براہ راست مداخلت بالکل ختم کی جائے،ہمیں پولیس کی بھتہ گیری نامنظور ہے۔انہوں نے کہا کہ ایل پی جی دکانوں کو لیگل کیا جائے کیونکہ لاکھوں خاندانوں کا رزق اس سے جڑا ہوا ہے یا حکومت اسکا متبادل دے تا کہ وہ خاندان اپنی روزی روٹی جاری رکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ روزبروز پولیس و سرکاری اہلکاروں کی بھتہ گیری و مداخلت نا منظور ہے اور اسکے خلاف کوئی مستقل ہل نکالا جانا چاہئے۔ ہم وزیراعظم عمران خان اور وزیرپیٹرولیم، وزارت پیٹرولیم کے ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ کا کارٹل ختم کرنے پر ان کے شکر گزار ہیں بے حد مشکور ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…