جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

عمران خان خواہ فیلڈ مارشل ہی کیوں نہ بن جائیں یہ اور ان کی حکومت نہیں بچ سکے گی،وزیراعظم کو ترجمانوں پر وقت برباد کرنے کی بجائے کیا کرنا چاہیے ،دوسری صورت میں کیا ہو سکتا ہے؟مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کر دیا گیا

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم ’’فیلڈ مارشل عمران خان‘‘ میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔ہمارے وزیراعظم عمران خان کے لیے لولا ڈی سلوا کی داستان میں بہت سے سبق چھپے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں صدر آصف علی زرداری نے لولا ڈی سلوا کے پروگرام بولسا فیملیا کی طرز پر پاکستان میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تھا‘ یہ پروگرام نواز شریف کے

دور میں بھی چلتا رہا اور یہ آج بھی چل رہا ہے مگر آپ فرق دیکھیے‘ اس پروگرام نے برازیل میں سات برسوں میں غربت ختم کر دی جب کہ پاکستان میں اس پر اربوں روپے سالانہ خرچ ہونے کے باوجود غربت میں اضافہ ہو رہا ہے‘ کیوں؟۔کیوں کہ ہم نے بولسا فیملیا کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا لہٰذا وزیراعظم لولا ڈی سلوا کا پروگرام منگوائیں‘ خود پڑھیں‘ اپنے لوگوں کو برازیل بھجوائیں اور یہ پروگرام اس کی مکمل روح کے ساتھ نافذ کر دیں‘ یہ پروگرام پاکستان میں بھی تبدیلی لے آئے گا‘ آپ اسی طرح برازیل کا پروگرام ایجوکیشن فار آل اور ہیلتھ فار آل کو لے لیں اور آپ یہ پروگرام بھی جوں کے توں نافذ کر دیں‘ یہ ان شاءاللہ یہاں بھی نتائج دیں گے‘ وزیراعظم کو یہ سمجھنا ہو گا غربت‘ تعلیم اور صحت عوام کے تین بڑے مسئلے ہیں۔۔وزیراعظم اگر صرف ان کو ”فوکس“ کر لیں اور یہ اس کے بعد اپنی توجہ روزگار پر لگا دیں تو یہ قائد اعظم کے بعد پاکستان کے دوسرے بڑے لیڈر بن جائیں گے مگر مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے وزیراعظم فوکس کرنے کی بجائے اپنی ساری صلاحیتیں چھوٹے چھوٹے اور غیر ضروری ایشوز پر ضائع کر دیتے ہیں مثلاً یہ روزانہ حکومتی ترجمانوں کی اڑھائی اڑھائی گھنٹے تربیت کرتے رہتے ہیں‘ یہ بھی ضروری ہے لیکن اگر وکیل کے پاس ملزم کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہو گی تو وکیل خواہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو یا اس کو خواہ کتنی ہی ٹریننگ کیوں نہ دے دی جائے

یہ مقدمہ ہار جائے گا چناں چہ وزیراعظم کو ترجمانوں پر وقت برباد کرنے کی بجائے لولا ڈی سلوا جیسے کام کرنے چاہییں۔یہ کام انہیں ترجمانوں اور سہولت کاروں دونوں کی محتاجی سے نکال دیں گے‘ پھر انہیں چودھری صاحبان اور ایم کیو ایم کی منت بھی نہیں کرنا پڑے گی اور حکومت بچانے کے لیے نواز شریف پر رحم بھی نہیں کھانا پڑے گا‘

وزیراعظم کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی حکومت نے اگر کام نہ کیا‘ یہ اگر عملی طور پر ایکٹو نہ ہوئی تو عمران خان خواہ فیلڈ مارشل ہی کیوں نہ بن جائیں یہ اور ان کی حکومت نہیں بچ سکے گی‘ یہ بھی سیدھے لندن جائیں گے اور باقی زندگی جنرل پرویز مشرف اور میاں نواز شریف کی طرح ہائیڈ پارک میں واک کرتے کرتے بسر کریں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…