جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

لاہور،شادی سے تین روز قبل لڑکی کا قتل،حرا کو کس بات پرغصے میں آ کر گولی مار دی، قاتل بہنوئی عدنان کے افسوسناک انکشافات

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور(آن لائن) قاتل عدنان کا بیان، کہنا ہے کہ حرا کو 3 دن سے ملاقات کیلئے بلا رہا تھا تاہم وہ انکار کر رہی تھی، آخری روز مقتولہ کو گھر سے بھاگنے کیلئے کہا لیکن اس نے انکار کیا اور بحث و تکرار ہوئی جس کے بعد غصے میں آ کر اسے گولی مار دی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں شادی سے قبل قتل کر دی جانے والی لڑکی حرا کے کیس کے مرکزی ملزم عدنان کی جانب سے مزید اور چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے ہیں۔

عدنان نے بتایا ہے کہ حرا کو 3 دن سے ملاقات کیلئے بلا رہا تھا مگر وہ انکار کر رہی تھی۔ پھر آخری روز اسے زبردستی گھر سے اٹھا کر لے گیا۔ عدنان نے بتایا ہے کہ اس نے حرا کو گھر سے بھاگنے کا کہا جس پر اس نے انکار کر دیا۔ اس دوران دونوں کے درمیان بحث و تکرار ہوئی جس کے بعد اس نے غصے میں آ کر حرا کو گولیاں ماریں اور وہاں سے فرار ہوگیا۔دوسری جانب پولیس کا بتانا ہے کہ ملزم احسن نے حرا کو ورغلا کردوستی کی اورزیادتی کی ویڈیو بھی بناتا رہا،حرا کو بداخلاقی کی ویڈیودکھا کر2سال تک بلیک میل کرتا رہا، ملزم نے بلیک میل کرکے حرا سے پیسے بٹورے اور زیورات بھی چوری کروائے۔پولیس کے مطابق حراکے قاتل ملزم احسن ریاض نے دوران تفتیش واقعے سے متعلق انکشافات کیے ہیں کہ ملزم احسن ریاض مقتولہ حرا کا خالہ زاد بھائی اور بہنوئی ہے۔ملزم دوسال تک حرا کوبلیک میل کرتا رہا،ملزم احسن ریاض نے ورغلا کر حرا سے پہلے دوستی کی،ملزم مبینہ زیادتی کے ساتھ حرا سے پیسے بھی بٹورتا رہا، ملزم نے بلیک میل کرکے حرا سے زیورات بھی چوری کروائے۔ملزم احسن مقتولہ حرا کو بداخلاقی کی ویڈیو دکھا کر بلیک میل کرتا تھا۔پولیس کو فون ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم احسن اورحرا کے درمیان اڑھائی ماہ کے دورا ن 12ہزار سے زائد میسجز، اور فون کالز کا تبادلہ ہوا۔قاتل احسن حرا کی سگی خالہ کا بیٹا اور دو بچوں کا باپ بھی ہے۔ملزم اور حرا کے گھر والوں میں اس معاملے پر ناچاقی بھی ہوتی رہی۔

حرا کے گھر والے اسی لیے جلدی شادی کرنا چاہتے تھے۔ واضح رہے گلبرگ میں شادی سے دو روز پہلے قتل ہونے والی لڑکی حرا کا قاتل گزشتہ روز پکڑ لیا ہے۔ پولیس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے ملزم کو اس کے موبائل فون ریکارڈ اور لوکیشن کی مدد سے گرفتار کیا۔ گوجرانوالہ کے علاقے ایمن آباد کا احسن عدنان مقتولہ کو پسند کرتا تھا، اسے قتل کرنے ایمن آباد سے لاہور آیا۔ ملزم احسن نے

وقوعہ کی شام حرا کو فون کرکے گھر کے پاس قریبی پارک میں بلایا۔ دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ملزم نے پہلے سے تیار منصوبے کے تحت مقتولہ کو فائر مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم احسن سمیت دوملزم حراست میں ہیں، قتل سے کچھ دیر پہلے حرا نے ان دونوں رشتہ داروں سے طویل گفتگو کی اور میسجز کیے تھے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر مقتولہ کے والد اور کیس کے مدعی کوبھی شامل تفتیش کیا



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…