جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سی ڈی اے نے متنازعہ علاقوں میں اسلام آباد کی حد بندی کا عمل روک دیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی ترقیاتی ادارے ( سی ڈی اے ) نے 4 متنازعہ علاقوں میں مزاحمت کے پیش نظر حتمی حکومتی فیصلہ آنے تک دارالحکومت کی حد بندی کے حوالے سے باؤنڈری ستون کھڑے کرنے کا کام روک دیا ہے تاہم متنازعہ علاقو ں کے علاوہ دارالحکومت کی حد بندی کا منصوبہ  تقریبا مکمل کر لیا گیا ہے ۔ ترجمان سی ڈی اے سید صفدر علی نے بتایا کہ سی ڈی اے نے 4 متنازعہ علاقوں میں

ستون کھڑنے کرنے کا کام اس وقت تک روکا ہے جب تک وفاقی حکومت اور مشتر کہ  مفا دات کونسل  کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاتا ان 4 متنازعہ علاقوں میں خیبرپختونخوا ، پنجاب راولپنڈی  کنٹونمنٹ کے ایریاز شامل ہیں جن میں اسلام آباد کی حدود کے لئے ستون کھڑے نہیں کئے جا رہے ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان متنازعہ علاقوں کے علاوہ اسلام آباد کی حدود بندی کا منصوبہ  تقریبا مکمل ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ مارگلہ پہاڑیوں سے  ملحقہ علا قو ں  کینٹلا اور تلہاڑ میں دیہاتیوں نے ہما ری  ٹیم کو کام کرنے سے روکا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ زمین اسلام آباد کی نہیں بلکہ کے پی کے میں ہری پوری کا حصہ ہے ۔اس کے بعد یہ معاملہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ہری پور کے ڈپٹی کمشنر کے سامنے اٹھایا گیا جنہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس علاقے میں اس وقت تک ستون کھڑے نہیں کریں گے جب  تک وفاقی حکومت اس بارے میں فیصلہ  نہیں کرتی اس کے علاوہ فیض آباد میں بھی اسلام آباد کی حد بندی کی جانی ہے جبکہ کنٹونمنٹ کے علاقوں سے متصل آئی 12   میں بھی   حد بندی کا عمل  روک دیاگیا ہے کیونکہ یہ علاقہ بھی متنازعہ سائیڈ پر آتا ہے ۔‎ترجمان نے کہا کہ باؤنڈری پلر لگانے کے منصوبے کا مجموعی طور پر 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔ یہ منصوبہ سپریم کورٹ کے حکم پر جون 2018 میں شروع کیا گیا تھا جو 90 دنوں میں مکمل ہونا تھا ۔ اس سلسلے میں اس منصوبے کو متعدد بار توسیع دی گئی جس کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر کی گئی تھی ۔ ترجمان نے کہا کہ 1032 پلرز میں سے 900 ستون تعمیر ہو چکے ہیں باقی کو جلد مکمل کر لیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور کے پی  حکومت کے درمیان اس معاملے کے حوالے سے صورت حال کچھ پیچیدہ ہے کیونکہ سروے آف پاکستان کے مطابق یہ علاقے اسلام آباد سے منسلک ہیں لیکن دیہات کے ریکارڈ کے مطابق ان علاقوں کو کے پی کے کا حصہ دکھایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کے لئے وزارت داخلہ کو سمری بھیجی جائے گی ۔ جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ان متنازعہ علاقوں کی حد بندی کے حوالے سے فوری فیصلہ کیا جائے ۔ یہ سمری چند دنوں تک وزارت داخلہ کو ارسال کر دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد کے قریب اسلام آباد راولپنڈی کے مابین متنازعہ علاقے سے متعلقہ معا ملہ  تقریباً طے پا چکا ہے کیونکہ راولپنڈی کے حکام اس بات پر قائل ہیں کہ یہ متنازعہ علاقہ دارالحکومت میں آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ اور سی ڈی اے میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے کہ آئی 12 کی حد بندی کے مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے ۔ ۔انہوں نے بتایا کہ 1963 ‎کے نوٹیفیکیشن کے مطابق دارالحکومت کا علاقہ 906 سکوائر میٹر تک پھیلا ہوا ہے اور یہ علاقہ بھی دارالحکومت کے ماسٹر پلان میں شامل ہے ۔1979 ء کی لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی روشنی میں اس علاقے کو راولپنڈی سے خارج کر دیا گیا تھا اور ایک اور نوٹیفیکیشن جو 1981 میں جاری کیا گیا اس میں راولپنڈی اور مری کے ملحقہ متعدد موضعات کو کیپیٹل ٹریٹری کا حصہ بنایا گیا تھا ۔آئی سی ٹی کا محکمہ مال اس وقت ان علاقوںکے  زمینی امور نمٹا رہا ہے ان علاقوں میں پھلگراں اور بوبڑی گاؤں شامل ہیں ان میں سے متعدد علاقے 1963 کے ماسٹر پلان کا حصہ نہیں تھے جنہیں بعدازاں 1981 ء میں آئی سی ٹی کی حد بندی میں شامل کیا گیا ۔سی ڈی اے حکام کے مطابق ان علاقوں کے مکینوں کو متعدد بار حد بندی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔تاہم اب ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سی ڈی اے ریونیو ڈائریکٹوریٹ  اس سلسلے میں کام کر رہا ہے ۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…