ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ابھی ڈراپ سین ہوا نہیں ہے، یہ ڈرامے کا ایک ایکٹ ہے جس کا ڈراپ سین ہوا ہے – نوازشریف اگر لندن چلے گئے تو کیا ہوگا؟حسن نثار نے بڑا دعویٰ کردیا‎‎

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی حسن نثار نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ ایک حکایت ہے کہ حضرت سلمان کے پاس ایک مہمان بیٹھا تھا وہاں ان کا ایک وزیر آیا جس پر حضرت سلمان نے کہا کہ یہاں بیٹھ جاؤ، وہ وزیر بیٹھ گیا، باتوں کے دوران وہ مہمان بار بار اس وزیر کو دیکھتا رہا، مہمان کے جانے کے بعد وزیر نے حضرت سلمان سے پوچھا کہ حضرت یہ مہمان کون تھا،

انہوں نے کہا کہ یہ موت کا فرشتہ تھا جو انسانی شکل میں مجھ سے ملنے آیا تھا، اس وزیر نے کہا کہ وہ مجھے بڑی حیرت اور عجیب طریقے سے دیکھ رہا تھا آپ مجھے کسی اور جگہ بھیج دیں، حضرت سلمان نے وزیر کے کہنے پر ہزاروں میل دور ایک جزیرے پر بھیج دیا، چشم زدن میں جنات اسے وہاں سے لے گئے، آگے پہنچا تو وہاں پر موت کا فرشتہ موجود تھا، فرشتے نے کہا کہ میں تو تمہیں وہاں دیکھ کر حیران رہ گیا تھا کہ میں نے تو تمہاری جان اس جزیرے پر قبض کرنا تھی لیکن تم ہزاروں میل دور بیٹھے تھے لیکن تم یہاں آ گئے، میرا مسئلہ حل ہو گیا۔ سینئر صحافی حسن نثار نے کہاکہ دعا قضا کو بھی ٹال دیتی ہے اللہ پاک میاں نواز شریف کو صحت دے، زندگی دے لیکن زندگیاں خریدی نہیں جا سکتیں، آدمی مختلف تجربوں سے گزرتے ہیں لیکن بات سمجھ میں نہیں آتی، جس طرح صحت اور زندگی کا تعلق کسی اور بات سے ہے، انہوں نے کہاکہ لوگ کہہ رہے تھے کہ اس بار جدہ نہیں جائیں گے، معروف صحافی نے کہاکہ جدہ آ گیا، جدہ نے آنا ہی تھا، اسی طرح بزدلی اور بہادری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایک خوبصورت محاورہ ہے کہ کسی بزدل کی بیوی ہونے سے کسی بہادری کی بیوہ ہونا بہت بہتر ہے، ابھی ڈراپ سین ہوا نہیں ہے، یہ ڈرامے کا ایک ایکٹ ہے جس کا ڈراپ سین ہوا ہے، آگے چلے گا، معروف صحافی نے کہا کہ آپ واپس صحت مند ہو کر ملک واپس آئیں جیسے جدہ سے ہو کر آئے تھے اور وزارتِ عظمیٰ کا چوتھی بار حلف اٹھائی اور اس کے بعد وہیں حماقتیں دہرائیں، وہی حرکتیں دہرائیں اور دہراتے ہی چلے جائیں، جب آپ چلے جائیں تو پھر ایک اور بے نظیر آئے اور ایک اور بلاول آئے، اور تخت کے لیے بیٹی پھر نواسہ، حسن نثار نے کہاکہ بدقسمتی سے یہ ہماری روایت ہے، قوم انہی حماقتوں کی قیمت چکا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…