منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

لبنانی بنکوں سے تین ارب ڈالر کی رقم بیرون ملک منتقل

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

بیروت(این این آئی)لبنان میں مہنگائی ، بے روزگاری اور معاشی عدم توازن کے خلاف احتجاج کے جلو میں لبنانی بنکوں سے بھاری رقوم کی بیرون ملک منتقلی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔لبنان کے ایک پارلیمانی ذریعے نے عرب ٹی وی کو بتایاکہ بینک بند کیے جانے سے قبل تین ارب ڈالر کی خطیر رقم

بیرون ملک منتقل کی گئی ہے۔ ان میں سے 20 کروڑ ڈالر کی رقم ایک ہی بار بیرون ملک بھیجی گئی۔لبنان کے مرکزی بینک نے اپنی نگرانی میں کام کرنے والے لبنانی بینکوں سے کہا کہ وہ بنیادی نجی ایکویٹی اور مشترکہ اسٹاک ہولڈرز کے حقوق سے ممکنہ گراوٹ کی تیاری میں 20 فی صد تک اضافہ کرے اور عالمی ضروریات کے پیش نظرمنافع کی شرح 8 فی صد تک رکھیں۔یہ اضافہ امریکی ڈالر اور دو مراحل میں ہوگا۔ پہلے اس سال کے آخر میں 10 فی صد، اور دوسرا اگلے سال جون کے آخر تک اسی طرح کی ڈیڈ لائن سے ہوگا۔ اس فیصلے سے بینکوں کے سرمائے کو 4 ارب ڈالر کا تقویت ملے گی۔مظاہروں کے پھوٹ پڑنے کے بعد دو ہفتوں کی بندش کے بعد گذشتہ جمعہ کو لبنانی بینکوں کو دوبارہ کھول دیا گیا۔ لبنان میں بینکوں کی ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ دوبارہ کھلنے کے پہلے دو دن میں ، بینکوں کو فنڈز میں کوئی غیر معمولی حرکت نہیں دیکھی گئی۔لبنان 1975-1990 کی خانہ جنگی کے بعد بدترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ بیرون ملک سے رقم کی لبنان منتقلی نہ ہونے کے برابر ہے۔ موجودہ بحران نے لبنانی لیرہ کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت مزید کم کردی ۔اسی حوالے سے جیفریز انٹرنیشنل بنک کی چیف ماہر معاشیات نے علیا مبیض نے متنبہ کیا کہ افراط زر کی شرح 25 فی صد سے زیادہ ہونے کے نتیجے میں لبنان میں غربت میں 20 فی صد سے اور 30 فی صد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی پاؤنڈ کی قیمت کے ہر لبنانی کا پہلا سوال ہے۔ نئی حکومت کے قیام میں تاخیر سے ڈالر کے مقابلے میں لیر سخت دبائو کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں غیریقینی صورت حال ہے اور نہیں معلوم کہ نئی حکومت کون تشکیل دے گا اور نئی وجود میں آنے والی حکومت کی معاشی پالیسیاں کیاں ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…