ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف کے جسم سے خون رسنا شروع، جسم پر نیل کے نشانات ڈاکٹرز نے بڑے خطرے سے آگاہ کردیا، کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہو ر (این این آئی، آن لائن،مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے پلیٹ لیٹس 30 ہزار کی قابل قبول حد سے نیچے گرگئے ہیں۔ جس کے بعد ان کو ڈی اے پی ٹی دینا محفوظ نہیں۔

انہوں نے کہاکہ نوازشریف کی نازک اور غیرمستحکم صحت ان کے بھرپور علاج معالجہ کے انتظامات کی متقاضی ہے۔ ان کے پلیٹ لیٹس ایک مرتبہ پھر کم ہورہے ہیں۔ اس کی وجوہات اور تشخیص اب تک نہیں ہوسکی جس کے لئے بلاتاخیر تفصیلی طبی تحقیق درکار ہے تاکہ پلیٹ لیٹس میں کمی کے محرکات کا پتہ چلایا جاسکے۔دوسری جانب ڈاکٹر محمد ایاز نے بتایا کہ اسٹیرائیڈز کی وجہ سے نواز شریف کی شوگر میں اتار چڑھاؤ ہے اور فی الحال ان کو شوگر کی زیادتی کا سامنا ہے جب کہ انہیں دل اور گردوں سمیت کئی امراض بھی ہیں۔میڈیکل بورڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خون کے نمونے لینے سے بلیڈنگ بہت مشکل سے رکتی ہے۔ان کے بازو پر نیل کے نشان پڑ رہے ہیں جب کہ ان کی شوگر بھی کنٹرول نہیں ہے لہذا نواز شریف کو ان کی طبعیت سے متعلق آگاہ کر دیا گیا۔دریں اثنا میڈیکل بورڈ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کیلئے جینٹک ٹیسٹ تجویز کر دیا، ٹیسٹ کے لئے خون کے نمونے جرمنی بجھوائے جاتے تاہم یہ ہی ٹیسٹ پاکستان میں رہتے ہوئے بھی کروایا جا سکتاہے۔سروسز ہسپتال میں زیر علاج سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پیچیدہ بیماریوں کے پیش نظر میڈیکل بورڈ نے تشخیص کیلئے جینٹک ٹیسٹ کرانے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف کا جنیٹک ٹیسٹ اگر کروانے کی ضرورت پڑی تو پاکستان میں رہتے ہوئے بھی کروایا جا سکتا ہے۔لاہور چلڈرن ہسپتال کے ذریعے سرکاری طور پر سال میں دو دفعہ جنیٹک ٹیسٹ کروانے کے لیے نمونے جرمنی بھجوائے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پرائیویٹ طور پر ٹیسٹ کروایا جائے تو نمونے بھجوانے کے 7 دن میں ٹیسٹ رپورٹ موصول ہو جاتی ہے۔جنیٹک ٹیسٹ ہول جینوم سیکو ئینسنگ whole genome sequencing ٹیسٹ ہے جس کے لیے خون کے نمونے جرمنی بھجوائے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…