منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آٹو سیکٹر میں درآمدات میں حیران کن طور پر بڑی کمی، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی فروخت کتنی رہ گئی؟اعداد و شمار جاری

datetime 25  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) آٹو سیکٹر میں طلب کی کمی کے باعث رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کمپلیٹ اور سیمی ناکڈ کٹس (سی کے ڈی/ ایس کے ڈی) کی مجموعی درآمدات 27 فیصد کمی کے بعد 26 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ہوگئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مجموعی درآمدات مالی سال 2019 کی پہلی سہ ماہی میں بھاری گاڑیوں کیلئے سی کے ڈی/ایس کے ڈی کٹس کی آمد 11 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے 6 کروڑ 70 لاکھ ڈالر،

گاڑیوں کیلئے درآمد 21 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے 17 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اور ٹو وہیلرز کیلئے 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے ایک کروڑ 88 لاکھ ڈالر رہی۔علاوہ ازیں مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی میں مقامی آٹو سیلز 39 فیصد تک کم ہوکر 31 ہزار 17 یونٹس رہی جبکہ ٹرک اور بسوں کی فروخت بالترتیب 2049 یونٹس سے کم ہوکر 874 اور 267 یونٹس سے کم ہوکر 196 یونٹس ہوگئی۔ہونڈا اور سوزوکی بائیک کی فروخت بھی بالترتیب 12 اور 11 فیصد کمی سے 2 لاکھ 35 ہزار 116 اور 5 ہزار 18 ہوگئی جبکہ یاماہا کی فروخت ایک فیصد کم ہوکر 6 ہزار 212 یونٹس ہوگئی،اس کے علاوہ یونائیٹڈ آٹو موٹرسائیکل اور روڈ پرنس موٹرسائیکل کی فروخت بھی بالترتیب 26 اور 35 فیصد کم ہوکر 81 ہزار 12 اور 29 ہزار 399 یونٹس ہوگئی جبکہ راوی کی فرخت 54 فیصد کم ہوکر 3 ہزار 497 یونٹس تک پہنچ گئی۔اس حوالے سے پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایسسریز مینوفیکچررز کے چیئرمین کیپٹن محمد اکرم نے کہا ہے کہ مجموعی طور پر آٹو سیکٹر کی فروخت میں واضح کمی کی وجہ سے اسمبلرز نے پرزوں اور دیگر سامان کی درآمدات میں کمی کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ اسمبلرز فروخت میں کمی کی وجہ سے اپنے پلانٹس اور ڈیلرشپ نیٹ ورک میں بلٹ اپ انوینٹری پر بھی پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسری سہ ماہی میں، جنوری 2020 اور اس کے بعد سے فروخت اور فیوچر سیلز سیاسی ماحول، فصلوں کی صورتحال، قیمتوں اور معاشی اقدامات پر منحصر ہوگی۔ایک جاپانی آٹو اسمبلر نے کہاہے کہ کم فروخت کی وجہ سے پارٹس اور ایسسریز کی بہت انوینٹری سمیت شورومز اور فیکٹریوں میں فروخت نہ ہونے والی گاڑیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔دوسری جانب ایک کار ڈیلر کا کہنا ہے کہ آٹو اسمبلرز اپنے تصدیق شدہ شورومز سے طلب کو دیکھتے ہوئے سی کے ڈی/ایس کے ڈی کی درآمدات کیلئے آرڈر دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…