جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

نبی کریم ؐ کی حیات مبارکہ تمام انسانوں کیلئے مشعل راہ  ہے،  وزیر اعظم   عمران خان کی علماء سے گفتگو،بڑا اعلان کردیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ تمام انسانوں کے لئے مشعل راہ  ہے جس کی پیروی کرکے ہم صحیح معنوں میں مکمل مسلمان اور کامیابیوں کی منازل طے کر سکتے ہیں، اگر ہم نے اقوام عالم میں اپنا مقام حاصل کرنا ہے اور عظیم قوم بننا ہے تو ہمیں ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔

جمعرات کو یہاں وزیرِ اعظم عمران خان سے  جید مشائخ عظام کے وفد نے ملاقات کی جس میں مسئلہ کشمیر خصوصاً  وزیرِ اعظم کی جانب سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرکشمیرکی صورتحال کو اجاگر کرنے، دین اسلام کے اصل تشخص کو پیش کرنے، ناموس رسالت کے تحفظ اور اسلام فوبیاکے تدارک کے حوالے سے کی جانے والی تاریخی تقریر،  ملک میں نوجوان نسل کو صوفیائے کرام کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے سلسلے میں وزیرِ اعظم کی جانب سے یونیورسٹیوں میں سیرت چیئرز کے قیام  اور القادر یونیورسٹی کے قیام جیسے منصوبوں، غرباء  اور نادار افراد کے لئے ملک بھر میں احساس پروگرام کے تحت لنگر خانوں کا قیام،اسلام کی ترویج، اسلامی شخصیات اور اسلام کے تشخص کو اجاگر کرنے کے لئے ترکی اور ملائیشیا کے تعاون سے میڈیا ہاؤس کے قیام کے منصوبے اور ملکی استحکام و تعمیر و ترقی  کیلئے موجودہ حکومت کے اقدامات اور ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ تمام انسانوں کے لئے مشعل راہ  ہے جس کی پیروی کرکے ہم صحیح معنوں میں مکمل مسلمان اور کامیابیوں کی منازل طے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی کریم ؐ کی حیاتِ مبارکہ کا ہر پہلو تاریخ میں محفوظ ہے جس کی پیروی کرکے ہم اپنی زندگیوں کو سنوار سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں سیرت چیئرز کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ آنحضور، کی حیاتِ مبارکہ اور اسلام کے بارے میں جامع تحقیق کی جائے اور  طالب علموں اور نوجوان نسل کواس سے آگاہی فراہم کی جائے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ اگر ہم نے اقوام عالم میں اپنا مقام حاصل کرنا ہے اور عظیم قوم بننا ہے تو ہمیں ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے کا خواب ان کا دیرینہ مشن ہے جس کا اظہار انہوں نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالنے کے بعد کیا تاکہ اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کی طرف پیش قدمی کی جا سکے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی  کے دور میں نوجوان نسل کو

بیرونی ثقافتی یلغار سے محفوظ رکھنے اسلام کے تشخص اور اپنی  روایات اورتہذیب و تمدن سے روشناس کرانے کے لئے ضروری ہے کہ قومی تشخص اور خصوصاً صوفیائے کرام کی تعلیمات کو اجاگر کیا جائے۔     وفد میں شامل مختلف علمائے کرام اور مشائخ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تاریخی تقریر پر وزیرِ اعظم کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نے اپنی تقریر میں نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ پوری امت کی ترجمانی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم  نے جس مدبرانہ اور ماہرانہ اندانہ  میں اسلام کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہا کہ پوری دنیا میں صرف ایک ہی اسلام ہے اس نے نہ صرف اسلام کے اصل تشخص کی ترجمانی کی ہے بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔آپ کی تقریر نے جہاں آنکھوں کو کھولا ہے وہاں دلوں کو کھولا ہے۔علمائے کرام نے وزیرِ اعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم کی تاریخی تقریر نے جہاں  انہیں مسلمانوں کا لیڈربنا دیا ہے وہاں ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

وفد نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھانے، اسلام کے اصل تشخص کو اجاگر کرنے، ناموس رسالت کے تحفظ اور کشمیر کے مسئلے پر علمائے کرام اور مشائخ وزیرِ اعظم کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سلسلوں سے تعلق رکھنے والے مشائخ اور انکے لاکھوں پیروکار وزیرِ اعظم کے وڑن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ان کے ساتھ ہیں اور دعاگو ہیں کہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوں۔  مشائخ کرام نے وزیر اعظم کی جانب سے القادر یونیورسٹی  اور مختلف جامعات میں سیرت چئیر ز کے قیام کے اقدام کو بھی سراہا۔ انہوں نے نوجوان نسل کو صوفیا ئے کرام کی

شخصیات اور انکی تعلیمات سے  روشناس کرانے کے ضمن میں مختلف تجاویز پیش کیں۔ مشائخ کرام نے اوقاف کی املاک کے بہتر انتظام کے حوالے سے حکومتی کاوشوں خصوصا ً اوقاف کی املاک کو عوامی فلاح و بہبود کے لئے برؤے کار لانے اور درگاہوں کی آمدنی کو زائرین کے لئے بہتر سہولیات  کی فراہمی کے لئے استعمال کرنے کے اقدامات کو سراہا اور اس ضمن میں مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔ مشائخ کرام نے ملکی استحکام اور تعمیر و ترقی کے ضمن میں وزیرِ اعظم کو اپنی مکمل سپورٹ اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔   ملاقات کے اختتام پر ملکی ترقی و استحکام اور خصوصاً پاکستان کو ریاستِ مدینہ کی طرز پر ڈھالنے کے لئے وزیرِ اعظم کی کاوشوں کی کامیابی  کے لئے خصوصی طور پر دعا کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…