منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اقتصادی سست روی میں نجکاری کی کامیابی مشکل ہے، میاں زاہد حسین

datetime 23  اکتوبر‬‮  2019 |

ؐ کراچی( آن لائن )پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ نجکاری کے عمل میں غیر ضروری تاخیر سے ناکام اداروں پر مزید قرضے چڑھتے جائیں گے جبکہ خریداروں کی دلچسپی کم ہوتی جائے گی۔ موجودہ اقتصادی سست روی، ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی اور بلند ترین شرح سود میں

سرمایہ کارنجکاری میں زیادہ دلچسپی نہیں لینگے۔میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ جو ادارے کھربوں روپے ڈبونے کے باوجوداپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو سکتے ان سے جان چھڑانا ہی ملکی مفاد میں ہے کیونکہ انھیں مصنوعی طور پر زندہ رکھنے کے لئے حکومت کو ضروری وسائل ضائع کرنا پڑتے ہیں جو عوام کی فلاح پر لگائے جا سکتے ہیں۔ناکام ادارے ملکی سا لمیت کے لئے خطرہ بن چکے ہیں اس لئے خسارے میں زبردست اضافہ کرنے والے ان سفید ہاتھیوں کو نہ پالا جائے۔حکومت نے نجکاری کے عمل میںتمام متعلقہ اداروں اور ریگولیٹرز کو آن بورڈ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے نجکاری کا عمل مزید سست ہو جائے گا جبکہ ان اداروں میں نیب کی موجودگی سرمایہ کاروں کو متنفر کر سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ا سٹیل مل کی فروخت میں بھی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔اس ادارے کی فروخت کے لئے ابھی تک فنانشل ایڈوائیزر تک نہیں رکھا گیا ہے جس سے متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی کا پتہ چلتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ا سٹیل مل کے شراکت داروں کا شکوہ ہے کہ انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن کی وزارت اور ایف بی آر بھی اسٹیل مل کے دیرینہ مسئلے کو حل کرکے اسکی بحالی میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ واضع رہے کہ اس وقت یہ ادارہ510 ارب روپے خسارے کا شکار ہے جبکہ موجودہ حکومت کے دور میںاس کا ماہانہ خسارہ اوسطاً 2.8 ارب روپے ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران اور افغانستان سے سکریپ

سمگل کرنے والی با اثر مافیااسٹیل سیکٹر کو ہائی جیک کر چکی ہے اور وہ صورتحال کو جوںکا توں رکھنا چاہتی ہے۔یہ مافیا اس اہم شعبہ میں ڈاکومینٹیشن کے بھی خلاف ہے جسکی وجہ سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔یہی مافیا اسکریپ کی آڑ میںا سٹیل کی تیار مصنوعات بھی ا سمگل کر رہی ہے۔

جس نے مقامی صنعت کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایران اور افغانستان سے آنے والے اسکریپ پر ڈیوٹی میں اضافہ یا زمینی راستے سے اسکی تجارت بند کر کے سمندری راستہ استعمال کرنے کے فیصلے پر غور کیا جا سکتا ہے جس سے مقامی صنعت کو ریلیف ملے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…