جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

فضل الرحمن کااسلام آباد میں دھرنا، حکومت نے خاموشی سے ایسا کیا کام شروع کردیا جو مولانا کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

datetime 19  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(سی پی پی)قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے فنڈنگ کرنے والوں کے کوائف جمع کرنے شروع کردیئے ہیں جبکہ پنجاب میں جے یوآئی (ف)کے اہم رہنماؤں کی نقل وحرکت پرنظربھی رکھی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علما اسلام(ف)کے آزادی مارچ اوردھرنے کے لیے پارٹی کارکنوں سمیت تاجروں اورکاروباری طبقے سے بھی فنڈزلئے جارہے ہیں۔ حساس اداروں سمیت دیگرمحکموں نے آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے بڑے پیمانے پرفنڈنگ کرنیوالے تاجروں، کاروباری شخصیات کا سراغ لگانا شروع کردیا ہے۔ حساس اداروں کوشبہ ہے کہ پنجاب میں چند بڑی کاروباری شخصیات جو مسلک کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمان کے حامی ہیں ان کی طرف سے آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے لاکھوں روپے کے فنڈزاوردیگرسہولیات فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ کئی تاجراوربڑے دکاندار بھی آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے فنڈنگ کررہے ہیں لیکن ان کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہیں جب کہ جے یوآئی(ف)بھی ان کے نام ظاہرنہیں کررہی ہے۔ذرائع کے مطابق اگرحکومتی کمیٹی اورمولانا فضل الرحمن کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اورمولانا فضل الرحمن مارچ اوردھرنے کی ضد پرقائم رہتے ہیں تو پھرجماعت کے اہم رہنماؤں کو حراست میں لے کرنظربند کیا جاسکتا ہے۔حساس ادارے اس بات کا بھی سراغ لگارہے ہیں کہ تاجروں، کاروباری شخصیات اورجے یوآئی(ف)کے اہم رہنماؤں کے علاوہ مسلم لیگ(ن)،پیپلزپارٹی سمیت مولانا فضل الرحمان کی ہم نوا دیگرجماعتوں کی طرف سے مارچ اوردھرنے کی لئے کس قدر فنڈنگ کی جاتی ہے اوروسائل مہیا کیے جاتے ہیں۔

جمعیت علما اسلام (ف)پارٹی کارکنوں، دینی مدارس کے طلبا اورعام شہریوں سے ختم نبوت آزادی مارچ کے نام پرفنڈزجمع کررہی ہے۔ اس مقصد کے لئے باقاعدہ کوپن چھپوائے گئے تھے اوریہ سلسلہ تقریبا دوماہ پہلے شروع ہواتھا جوابھی تک جاری ہے۔ جے یوآئی(ف) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مارچ اوردھرنے کے لئے کسی سے غیرقانونی فنڈنگ نہیں لی جارہی ہے، ہرضلع کے کارکن اورقافلے اپنے اخراجات خودبرداشت کرتے ہوئے مارچ اوردھرنے میں شریک ہوں گے،مرکزی پروگرام کے اخراجات جمعیت اوراس کی ذمہ داران خود کرررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…