پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کی 90 فی صدآبادی کو وہ توجہ نہیں ملتی جو ملنا چاہیے ،ماہر نفسیات

datetime 11  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن) پاکستان کی 90 فی صدآبادی کو وہ توجہ نہیں ملتی ہے جو اس کو ملنا چاہیے جبکہ یورپی ممالک میں معاشرہ میں نظر انداز کئے جانے والے افراد کی تعدادپچاس فیصد کے قریب ہے، ذہنی بیماری دنیا کی تیسری بڑی بیماری شمار کی جاتی ہے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن کے مطابق ہرسال 40 سے 50 لاکھ افراد ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہ بات نفسیات کی استاد اور سی بی ٹی ایکسپرٹ میڈم ایویشا عنایت نے

جمعرات کے روز ذہینی صحت کے عالمی دن کے موقع پر محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی میں لیکچر دیتے ہوئے بتائی جس کا اہتمام یونیورسٹی کے بی ایس۔سائیکولوجی کی کو آرڈینیٹر اور پروگرام ایڈوائیزر مریم حنیف غازی نے کیا تھا۔ذہنی صحت کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے لیکچر میں میڈم ایویشا عنایت نے کہا کہ اس سال اس دن کا تھیم خود کشی کے رہجان سے بچاو رکھا گیا ہے کیونکہ دنیا بھر میں اس رحجان میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جو انتہائی قابل تشویش بات ہے جس کی بڑی وجہ لوگوں کو وہ توجہ نہ ملنا جو وہ چاہتے ہی اور ہمارا موجودہ طرز زندگی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد کا انتہائی افسردگی (Depression ) کا شکار ہوجانا ایک بیماری ہے جس کو نظر انداز کرنا یا اسے چھپانا درست نہیں ہے بلکہ اس کے علاج پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ماہر نفسیات کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے جبکہ ذہنی بیماریوں کے علاج کے ہسپتال کی تعداد 10 سے زائید نہیں ہے جس کی بنا پر 25 ہزار افراد کے لئے ایک مینٹل ہیلتھ ڈیویلپرز آتا ہے۔انہوں نے کہا ہمارے معاشرہ میں مایوسی کا شکار نوجوانوں کا علاج کرانے پر توجہ نہیں دی جاتی اور انھیں کہا جاتا ہے کہ مایوسی کفر ہے اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد یہ ٹھیک ہو جائیں گے درست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ڈپریشن کا شکار افراد ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کے بجائے عاملوں کے چکر میں زیادہ

پڑجاتے ہیں مگر یہ بھی اس بیماری کا علاج نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں سسٹم کی تبدیلی بھی اثر انداز ہوتی ہے اس لئے اس پیدا ہونے والے مسائل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے لوگوں کی سوچ کا زاویہ تبدیل کرانا بھی لازمی ہے۔انہوں نے بتایا کہ صحت

عامہ کی عالمی تنظیم کے سروے کے مطابق 45 سے 50 فی صد خواتین اور 20 سے 25 فی صد مرد ڈپریشن کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی فلمیں نہ دیکھنے دیں جن میں خودکشی کرنے کے سین دکھائے جارہے ہوں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…