اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

نئے پاکستان میں معیشت کے اکثر شعبے زوال پذیر، عوام کی توقعات ڈھیر ہو گئیں،تاجر پریشان، انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 20  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ عوام اور کاروباری برادری کی مایوسی ختم کرنے کے لئے مزید معنی خیز اقدامات کی ضرورت ہے۔گزشتہ دو ماہ کے دوران جاری حسابات کا خسارہ کم ہوا ہے جس کے نتیجہ میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے مگر یہ ناکافی ہے۔

صنعتی ترقی میں کمی آئی ہے، صنعتی پیداوار اوربڑی صنعتوں کی پیداوار بھی کم ہو رہی ہے،ٹیکسٹائل و جنرل انڈسٹری پریشانی کا شکار ہے۔آٹو موبائل سیکٹرکی پیداوار نصف رہ گئی ہے، زرعی پیداوارکی صورتحال پریشان کن ہے، خدمات کا اہم شعبہ، اسٹاک ایکسچینج، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کابراحال ہے اور دیگر شعبے بھی مسلسل تنزلی کا شکار ہیں۔برآمدات جامد جبکہ قرضے بڑھ رہے ہیں جس سے جی ڈی پی پر اثر پڑ رہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ آٹے، چینی، دال اور گھی سمیت مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمت میں 123 فیصداضافہ ہوا ہے، گیس کی قیمتوں میں ایک سال میں 143 فیصد، بجلی کی قیمت میں 12فیصد، پٹرول کی قیمت میں 23 فیصد، بے روزگاری میں 5 فیصد، ادویات کی قیمت میں 200 فیصد، صحت کی سہولیات 13 فیصدجبکہ تعلیم 7 فیصد مہنگی ہو گئی ہے جس نے عوام کی کمر توڑدی ہے اور عام خیال یہ ہے کہ صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑ رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اقتصادی حقائق کو چھپانا ناممکن ہے کیونکہ جب لوگ بڑی تعداد میں بے روزگار ہو رہے ہوں، کاروبار ٹھپ پڑے ہوں اور بازار میں بکنے والے اشیاء کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہو تو عوام کو پتہ چل جاتا ہے کہ ریکارڈ وقت میں صورتحال ٹھیک کرنے کے دعوے کرنے والوں نے ملک کا کیا حال کر دیا ہے۔حالات سے تنگ آ کرپنجاب کے چار ضلعوں کے پاور لومز مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، لاہور میں گاڑیوں کے شو روم مالکان نے گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان کر دیا ہے،اسپتالوں میں ادویات اور ویکسین کی قلت سے اموات ہو رہی ہیں جس پر شہری سراپا احتجاج ہیں۔انھوں نے کہا کہ عوام کی توقعات تلخ معاشی حقائق کے سامنے ڈھیر ہو گئی ہیں جسکی وجہ سے انکی مایوسی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…