بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

اشوبھا نے سراٹھالیا،محکمہ موسمیات کی وارننگ جاری

datetime 9  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) بحیرہ عرب میں بننے والا سمندری طوفان اشوبھا نے پاک بھارت کے سرحدی ساحل رن آف کچھ کا رخ کر لیا ہے ۔ محکمہ موسمیات نے وارننگ دی ہے کہ 15 فٹ اونچی لہروں کا طوفان آ سکتا ہے۔ ماہی گیر سمند رمیں نہ جائیں، کسی بھی وقت بارشیں شروع ہو سکتی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق سندھ اور مکران کے ساحلوں سے 550 کلو میٹر دور طاقت پکڑتا ہوا اشوبھا نے پاک بھارت کے سرحدی ساحل رن آف کچھ کا رخ کر لیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق چالیس ناٹیکل میل فی گھنٹے کی رفتار سے حرکت کرنے والے سمندری طوفان کے باعث آئندہ 24 گھنٹوں میں سندھ کے ساحلی علاقوں ٹھٹھہ، بدین، جاتی اور کراچی میں تیز ہواں کے ساتھ طوفانی بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق اشوبھاکراچی سے تقریبا 200 میل کی دوری سے گزرے گا لیکن اس طوفان کی وجہ سے سمندر میں دس سے پندرہ فٹ اونچی لہریں اٹھیں گی۔ اس صورت حال میں کراچی کی ساحلی بستیوں ابراہیم حیدری،ریڑھی گوٹھ اور مبارک ولیج میں ہنگامی حالت کا نفاد کر دیا گیا ہے اور مچھیروں کو جمعرات تک کھلے سمندر میں نہ جانے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔کراچی کے سمندری طوفان کے وارننگ سینٹر کے ڈائریکٹر قیوم بھٹو نے کہا کہ یہ سمندری طوفان بحیرہ عرب کے مشرقی وسط میں موجود ہے اور 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا یہ پیر کی دوپہر کو شمال اور شمال مغرب کی جانب منتقل ہوگیا تھا۔ کراچی سے تقریبا 550 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود اس طوفان کے اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید شدت اختیار کرتے ہوئے شمال مغرب کی جانب بڑھنے کا امکان ہے۔قیوم بھٹو نے کہا کہ سندھ مکران ساحل کے ساتھ ساتھ سمندر کی صورتحال شدید سے شدید تر ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ سمندری لہریں زیادہ سے زیادہ 12 سے 15 فٹ تک بلند ہوسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ماہی گیروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جمعرات تک کھلے سمندر میں نہ جائیں، جبکہ بلوچستان کے ماہی گیروں کو جمعہ تک کھلے سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس سمندری طوفان سے بننے والے سسٹم کے تحت کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، تھرپارکر، ٹھٹہ، بدین اور سجاول کے ضلعوں میں اگلے 24 گھنٹوں سے 48 گھٹنوں کے اندر اندر گرج چمک اور معتدل بارش یا شدت کے ساتھ 25 سے 35 ملی میٹر کے درمیان ہوسکتی ہیں، اس کے ساتھ چلنے والی ہواں کی رفتار 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بھی بدھ سے اسی طرح کی صورتحال کی توقع ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…