بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

”اماں کبھی خودبھی کھانا پکا لیا کرو“خورشید شاہ کی تقریر،اراکین لوٹ پوٹ

datetime 9  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)”اماں کبھی خودبھی کھانا پکا لیا کرو“خورشید شاہ کی قومی اسمبلی میں تقریر،اراکین اسمبلی کے پیٹ میں بل پڑ گئے،تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے دلچسپ پیرائے میںحکومت پر کڑی تنقید کی ۔ اپنے دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ہمیں سو موٹو اور اجینو موٹو کا سامنا تھا اس دور میں تین چیزیں تھیں سو موٹو، اجینو موٹو اور عتیقہ اوڈھو۔ اس پر اپوزیشن ارکا ن نے ڈیسک بجائے ایک موقع پر جب ایک وزیر نے قائد حزب اختلاف کی تقریر میں مداخلت کی تو خورشید شاہ غصے میں آ گئے اور کہا جب وزیراعظم تقریر کر رہے ہوتے ہیں تو کوئی مداخلت نہیں کر سکتا اس طرح قائد حزب اختلاف کی تقریر میں بھی کوئی مداخلت نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے متعلقہ وزیر سے کہا کہ آپ تو کابینہ کے ایک چھوٹے سے وزیر ہیں ایک موقع پر جب وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے وزیر مملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد کے ہاتھوں سید خورشید شاہ کو ایک چٹ بھجوائی تو خورشید شاہ نے کہا کہ مجھے وزیرخزانہ نے ان ڈائریکٹ یہ چٹ بھجوائی ہے اس پر سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ وزیر خزانہ نے آپ کو تھرو پراپر چینل چٹ بھیجی ہے ایک موقع پر جب بجلی کی قلت پر بات کر رہے تھے تو حکومتی رکن نے چین سے بجلی لانے کی بات کی جس پر خورشید شاہ نے کہا کہ کیا آپ اپنے بچوں سے کہیں گے کہ صبر کرو باہر سے کھانا آ رہا ہے انتظار کرو۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے اماں کبھی خود بھی کھانا پکا لیا کرو۔ خورشید شاہ نے ایک اور موقع پر سندھی کہاوت سنائی اور اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھمبور میں کوئی شخص کسی کو ملنے گیا تو اس خاتون نے اس شخص سے کہا کہ گرمی بہت ہے تم نہ جاﺅ یہیں بیٹھے رہو میں تمہیں پنکھا جھلتی رہوں گی حکومت کا بھی یہ وطیرہ بن چکا ہے ایک موقع پر قائد حزب اختلاف نے حکومت سندھ کی طرف ان کو لکھے گئے ایک خط کی نقل بھی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کو پیش کی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…