جمعرات‬‮ ، 18 جون‬‮ 2026 

پولیس اگر اپنی لیڈی کانسٹیبل کو انصاف نہیں دے سکتی تو پھر یہ عام آدمی کو کیا تحفظ دے گی؟ پنجاب میں دو مہینوں میں پولیس تشدد کے کتنے واقعات پیش آئے؟ ان میں کتنے لوگ مارے گئے؟ صلاح الدین کی ہلاکت نے پولیس کے نظام کو ننگا کرکے رکھ دیا، جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 9  ستمبر‬‮  2019 |

انگریز کے زمانے میں ڈی ایس پی ضلع کا سب سے بڑا افسر ہوتا تھا اور ایک اے ایس آئی پوری تحصیل کو سنبھالتا تھا‘ پولیس کا ایک ہر کارہ پورے گاؤں کو گرفتار کر کے تھانے لے آتا تھا اور کوئی شخص چوں نہیں کرتا تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ انگریز یونیفارم کو سٹیٹ سمجھتا تھا‘ کوئی شخص اس یونیفارم کی طرف انگلی بھی اٹھا دیتا تھا تو وائسرائے فوج بھجوا دیتا تھا  اور فوج انگلی اُٹھانے والے کے سارے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹا دیتی تھی

لیکن آج سینئر ترین پولیس آفیسرز اور تھانوں اور حوالات کے بریگیڈز کے باوجود ملک میں پولیس کی کوئی عزت نہیں‘  پولیس اہلکاروں کو تھپڑ بھی پڑ جاتے ہیں اور ڈنڈے بھی‘دوسری طرف پولیس عام لوگوں کو ننگا کرکے الٹا بھی لٹکا دیتی ہے‘ یہ معذوروں کو استری کے ذریعے جلا کر بھی مار دیتی ہے اور غریبوں کی ہڈیاں توڑ کر لاشیں ہسپتال بھی پھینک دیتی ہے‘ یہ ثابت کرتا ہے آپ اگر مضبوط ہیں تو آپ پولیس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور آپ اگر کمزور ہیں تو پھر پولیس آپ کی کوئی پرواہ نہیں کرتی‘ پولیس کا تشدد اور پولیس پر تشدد اس وقت ملک کا سب سے بڑا ایشو بن چکا ہے، پنجاب میں دو مہینوں میں پولیس تشدد کے 950 واقعات پیش آئے‘جن میں سات لوگ مارے گئے‘ ذہنی معذور صلاح الدین کی پولیس کی حراست میں ہلاکت نے پولیس کے نظام کو ننگا کرکے رکھ دیا‘ پھر لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز کے واقعے نے ایک اور سوال اٹھا دیا کہ پولیس اگر اپنی لیڈی کانسٹیبل کو انصاف نہیں دے سکتی تو پھر یہ عام آدمی کو کیا تحفظ دے گی‘ آئی جی پنجاب عارف نواز نے ان دونوں سوالوں سے بچنے کے لیے آج تھانوں میں پولیس اہلکاروں‘ میڈیا اور عام شہریوں کے موبائل فونز کے استعمال پر پابندی لگا دی‘ کیا یہ فیصلہ پولیس کلچر تبدیل کر دے گا‘ کیا یہ پولیس ریفارمز ہیں‘ پولیس شہریوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی لیکن یہ خوف کی علامت بن گئی‘ پولیس کا امیج کیسے بہتر بنے گا اور کانسٹیبل فائزہ نواز کے واقعے نے ثابت کر دیا ملک میں خواتین محفوظ نہیں ہیں خواہ وہ سرکاری ملازم ہی کیوں نہ ہوں؟



کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…