پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

مالی سال 2019-20میں شرح نمو 3.5فیصد رہے گی ، گورنر سٹیٹ بینک

datetime 31  اگست‬‮  2019 |

کراچی( آن لائن ) اسٹیٹ بینک پاکستان کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے لیے ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کی نمو کا ہدف 2.4 فیصد رکھا تھا لیکن ہمارے اندازے کے مطابق مالی سال 20-2019 میں شرح نمو 3.5 فیصد رہے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسٹیٹ بینک کسی بھی بیرونی دبائوکو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے چاہے وہ کشمیر کی صورتحال پر فوجی چیلنج کے حوالے سے ہو یا عالمی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کا معاملہ ہو۔ایوانِ صنعت و تجارت پاکستان کے فیڈریشن (ایف پی سی سی آئی) کی منعقد کردہ ایک تقریب میں تجارتی و صنعتی رہنماں سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے یقین دہانی کروائی کہ معیشت صحیح سمت میں گامزن ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنی پالیسیوں میں استحکام پیدا کرنا ہوگا، تقریب میں تمام کمرشل بینکوں کے سربراہان بھی موجود تھے۔اس موقع پر صنعتی رہنمائوں کی جانب سے بتائے گئے متعدد مسائل پر جواب دیتے ہوئے رضا باقر نے کہا کہ ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے اپنی توجہ 3 بڑے معاملات پر مرکوز رکھی ہوئی ہے جس میں ایکسچینج ریٹ، غیر ملکی کرنسی کے ذخائر اور شرح سود شامل ہے۔تقریب میں موجود زیادہ تر رہنما اسٹیٹ بینک کے ساتھ ساتھ حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کے اثرات پر تنقید کررہے تھے اور متفقہ طور پر ان کی رائے یہ تھی کہ ان اقدامات نے معیشت کو سست، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی جس کا نتیجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی صورت میں نکل رہا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ختم ہوتے ہوئے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کے ساتھ اسٹیٹ بینک کو ایکسچینج کو مصنوعی طور پر کم سطح پر رکھ کر ایڈجسٹ کرنا پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…