منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

ہم یقیناً سوئے رہے، اب اگر ٹرمپ فون کرے گا تو مودی کہے گا ثالثی کرنی ہے تو آزاد کشمیر پر کرو، حکومت پاکستان کی غفلت پر بڑے سوال اُٹھا دیے گئے

datetime 5  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ہم یقیناً سوئے رہے، اب اگر ٹرمپ فون کرے گا تو مودی کہے گا ثالثی کرنی ہے تو آزاد کشمیر پر کرو، یہ بات سینئر صحافی طلعت حسین نے کہی، انہوں نے کہا کہ ثالثی کے لیے ٹرمپ مودی کو فون نہیں کرے گا، انہوں نے کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق ہندوستان کی پالیسی ہمیشہ بدنیتی پر مبنی تھی، انہوں نے کہا کہ جب وہ اس کو متنازعہ علاقے کہتے تھے تو ان کا مطلب یہ ہی ہوتا کہ اس کو اپنے ساتھ ملانا ہے۔

طلعت حسین نے کہاکہ عالمی دنیا کے سامنے پاکستان ایک تگڑا مقدمہ رکھ سکتا ہے کہ ہم جو کہتے رہے یہ وہی کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان اسی طرح یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان نے کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت جو خصوصی حیثیت دی ہوئی تھی، وہ ختم کر دی ہے، بھارت نے اپنے ہی آرٹیکل کو نہیں مانا اور اسے ختم کرکے کشمیر کو ضم کر دیا ہے، اس لیے ہم اس کو نہیں مانتے، ایسا کرنے سے کشمیر کے متنازعہ ہونے کے خدوخال پر کوئی فرق نہیں پڑا، طلعت حسین نے کہا کہ پاکستان یہ دلائل دے سکتا ہے کہ بھارت نے اندرونی واردات کرنے کی کوشش کی ہے، سینئر صحافی نے کہا کہ ہماری ساری توجہ ایل او سی تھی، بھارت کی جانب سے کلسٹر بم پھینکے گئے، انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کو باور کروا سکتے تھے کہ ایل او سی کی انڈیا خلاف ورزی کر رہا ہے، طلعت حسین نے کہا کہ اس معاملے کو ہم نے نظروں سے اوجھل ہونے دیا، جبکہ بھارت لائن آف کنٹرول کو ایک بارڈر میں تبدیل کرتے ہوئے کہ رہا ہے کہ یہ حدود ہماری ہے، لداخ، جموں و کشمیر کو ہم نے یونین میں تبدیل کردیا ہے، انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے اپنے منشور میں لکھا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیا کرنا چاہتے ہیں، بی جے پی کے وزیر داخلہ نے اپنے ہوم ورک میں تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا ایجنڈا بنا رکھا ہے، طلعت حسین نے کہاکہ یہ ایک طویل عمل ہے لیکن ہم اس پر یقیناً سوئے رہے، لوگوں کو جمہوریت پر لیکچر دیتے رہے، سینٹ الیکشن میں مصروف رہے، میڈیا سے نبرد آزما رہے، سینئر صحافی نے کہا کہ اب ہمیں ٹرمپ سے ثالثی نہیں کروانی چاہیے، مودی کو اگر ٹرمپ فون کرے گا تو وہ کہے گا کہ یہ تو ہمارا حصہ ہے، آپ نے اگر ثالثی کرنی ہے تو آزاد کشمیر پر کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…