جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مجھے ٹرمپ کے گالوں پر مودی کے تھپڑ کے نشان نظر آ رہے ہیں، مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا عالمی عدالت سے رجوع، حامد میر نے بڑا دعویٰ کر دیا

datetime 5  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)مجھے ٹرمپ کی گالوں پر مودی کے تھپڑ کے نشان نظر آ رہے ہیں، یہ بات معروف صحافی حامد میر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں دو کام کرنا چاہئیں، پاکستان نے بھارت کو سکیورٹی کونسل کا رکن نامزد کرنے کے لیے حمایت کا فیصلہ کیا ہوا ہے، سب سے پہلے ہمیں یہ اعلان کرنا چاہیے کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ممبر شپ کا ووٹ ہم نہیں دیں گے،

یہ پاکستان کو کھلم کھلا اعلان کرنا چاہیے، دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کو عالمی عدالت میں جانا چاہیے، وہ اگر کلبھوشن کا معاملہ عدالت میں لے کر جا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں لے جا سکتے، یہ دو کام آپ کو ہر صورت کرنے چاہئیں اور آپ نے جو بھارت کے ساتھ بیک ڈور چینل کھولے ہوئے ہیں اور دیگر معاملات ہیں وہ بند کرنا ہوں گے، یہ بعدمیں دیکھا جائے گا کہ عالمی برادری نے کیا کرناہے پہلے ہمیں خود بھی کچھ کرکے دکھانا ہے، معروف صحافی نے کہاکہ فی الحال ہم نے کل پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس بلایا ہے، انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان اور پارلیمنٹ کی طرف سے ایک ایسی قرارداد منظور کرنی چاہیے، جس میں ہم یہ بتائیں کہ ہندوستان نے جو کچھ بھی یہ کیا ہے، وہ افغان میں ہونے والے امن کے حوالے سے جاری مذاکرات کی وجہ سے کر رہا ہے وہ امن مذاکرات سبوتاژ کرنا چاہتاہے، معروف صحافی نے کہا کہ اگر افغانستان میں کوئی اچھی تبدیلی آئے گی تو اس سے کشمیر کی تحریک بھی تیز ہو گی، انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ثالثی کی بات کی تھی اس کے جواب میں اب مودی نے جو حرکت کی ہے دراصل یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے، حامد میر نے کہا کہ مجھے ٹرمپ کی گالوں پر مودی کے تھپڑ کے نشان نظر آ رہے ہیں، پتہ نہیں باقی دنیا کو نظر آ رہے ہیں کہ نہیں مجھے تو نظر آ رہے ہیں۔ مودی نے جو آرٹیکل 370 اور 35 اے منسوخ کرایا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں ایک مارشل لاء نافذ کر دیا ہے لگتا یہی ہے ان کے وہی عزائم ہیں جو کہ مائیکل ڈائر کے تھے انہوں نے جلیانوالہ باغ میں 1919ء میں قتل عام کیا تھا، اب مودی بھی یہی کرنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…