منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شریف خاندان نے کسانوں کو عید کا تہوار منانے سے محروم کردیا،سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود کروڑوں روپے کی ادائیگی نہیں کی،حیرت انگیز انکشافات

datetime 4  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود رمضان شوگر مل کے مالک شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف نے گنا کے کاشتکاروں کو 85 کروڑ روپے کی ادائیگی نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دے رکھا ہے کہ حکومت پنجاب گنا کاشتکاروں کو گنا کی ادائیگی ہر حال میں یقینی بنائے۔

بھوانہ‘ جھنگ اور چنیوٹ کی تحصیلوں کے مزدور کسانوں کو مجموعی طور پر 85 کروڑ روپے کے بقایا جات ادا ہی نہیں کئے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے بھی اپنا آئینی اور اخلاقی کردار ادا نہیں کررہی ہے۔ تینوں تحصیلوں کے  ہزاروں کسان روزانہ شوگر مل کے باہر اپنی رقوم کے حصول کی خاطر جمع ہوتے ہیں جبکہ شام کو مایوس ہوکر واپس چلے جاتے ہیں جبکہ دی سی چنیوٹ بھی اس حوالے سے مل مالکان کے ساتھ مل چکے ہیں۔ ان تینوں تحصیلوں میں مسلم لیگ (ن) کو ہزیمت ناک شکست ہوئیت ھی تاہم جو ممبران پی ٹی آئی کے کامیاب ہوکر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے ممبران بنے ہیں وہ بھی کسانوں کے بقایا جات کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کررہے ہیں جبکہ کسانوں کے مل کو آگ لگانے تک جذبات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ شریف خاندان پہلے قومی خزانہ لوٹتا تھا اب کسانوں کی جمع پونجی لوٹ کر عیاشی کرنے میں مصروف ہے کسانوں نے عمران خان اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں گنا کی ادائیگیاں عید سے پہلے کرائیں ورنہ دید مذہبی تہوار بھی منانا مشکل ہوجائے گا۔  سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود رمضان شوگر مل کے مالک شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف نے گنا کے کاشتکاروں کو 85 کروڑ روپے کی ادائیگی نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دے رکھا ہے کہ حکومت پنجاب گنا کاشتکاروں کو گنا کی ادائیگی ہر حال میں یقینی بنائے۔ بھوانہ‘ جھنگ اور چنیوٹ کی تحصیلوں کے مزدور کسانوں کو مجموعی طور پر 85 کروڑ روپے کے بقایا جات ادا ہی نہیں کئے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…