منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شیری رحمن نے سینیٹ کی خالی جنرل نشست کیلئے بطور امید وار کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے

datetime 5  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن نے سینیٹ کی خالی جنرل نشست کیلئے بطور امید وار کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے ہمراہ صوبائی الیکشن کمشنر آفس پہنچیں اورسینیٹ کی خالی جنرل نشست کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں،رپورٹ کے مطابق ابھی تک شیری رحمن کے مقابلے کسی نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے شیری رحمن بلا مقابلہ سینیٹر منتخب ہونے کا امکان ہے۔کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعدصحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمن نے کہا کہ سینیٹ کا ٹکٹ دینے پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف زرداری کی مشکور ہوں ،انہوں نے کہا کہ ملک میں مشکلات اور مسائل سے گھرا ہوا ،تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ملک کو ان مسائل سے چھٹکارا دلانا ہوگا،انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی غریبوں کی پارٹی ہے اور ہمیشہ عوام کیلئے ہی کام کیا ہے ،پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آمریت کا مقابلہ کیا ہے،سندھ حکومت عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیاد وں پر حل کررہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ میڈیا سے گزارش ہے کہ پیپلز پارٹی تنقید ضرور کی جائے لیکن اچھے کاموں کی تعریف بھی ہونی چاہیے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک جمہوریت جماعت ہے اور ہمیشہ جمہوری انداز میں فیصلے کرتی ہے،پیپلز پارٹی کی قیادت نے شیری رحمن کی پارٹی قربانیوں کے پیش نظر سینیٹ الیکشن کیلئے ٹکٹ جاری کیا ہے،انہوں نے کہا کہ سینیٹ ایک بڑا ایوان ہے جہاں پر تمام ملکی مسائل پر بحث کی جاتی ہے،شیری رحمن سینیٹ میں جا کر صوبہ سندھ کے مسائل کو اجاگر کریں گی اور ان کے حل کے لئے اہم کردار ادا کریں گی،ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے بلدیاتی الیکشن کیلئے تیاری کررہے ہیںصوبے میں پرامن انتخابات کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے،ایک اور سوال پر قائم علی شاہ نے کہا کہ گورنر سندھ کیلئے پیپلز پارٹی نے حکومت کو کوئی نام نہیں دیا،گورنر کی تعیناتی حکومت کا کام ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…