جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

 ہم نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت دے کر بیرونی خطرات سے محفوظ کر دیا،اب کیا کرنا ہوگا؟ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انتباہ کردیا

datetime 26  جولائی  2019 |

لاہور (آن لائن) معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت دے کر بیرونی خطرات سے محفوظ کر دیا ہے اور اب ہمیں اندرونی طور پر ملک کو بیماریوں کے پھیلتے ہوئے تشویشناک خطرات سے تحفظ فراہم کرناہو گا جس کے لیے حکومت،رفاہی وسماجی اداروں اور پرائیوٹ سیکٹر کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ان خیلات کو اظہار انہوں نے چغتائی لیب کے مرکزی دفتر کے دورہ کے دوران لیب کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے خطاب کرتے ہوئے کیا

انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت سے متعلق اداروں اور تنظیموں کو اس مقصد کے حصول کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا تاکہ وطنِ عزیز کو ایک صحت مند قوم اور صحت مند معاشرہ فراہم ہوسکے جو کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ناگزیرہوتا ہے انہوں نے کہا ہم نے ملک میں صحت کی سہولیات کے فقدان کے پیشِ نظر  ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال قائم کیا جو 2015ء سے اب تک تقریباً 4لاکھ نادار اور غریب مریضوں کو علاج معالجہ کی مفت سہولیات فراہم کر چکا ہے اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ  صحت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم ہسپتال کے 300بستروں پر مشتمل ایک سٹیٹ آف دی آرٹ نیا ٹاور تعمیر کر رہے ہیں جس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے اور اس کا افتتاح ہم اکتوبر 2020ء تک کر دیں گے جس میں ہر شعبہ کے ماہر ڈاکٹرز عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنا شروع کر دیں گے۔قبل ازیں چغتائی لیب کے مینجنگ ڈائریکٹر عمر چغتائی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں  ڈاکٹر عبدالقدیرخان کی ملک کے لئے کی گئی دفاعی اور رفاہی خدمات پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی خدمات بے مثال ہیں جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ ہم چغتائی لیب کے ذریعے فلاحِ انسانیت کاکام کر رہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ان کے گھروں تک لیب کی سہولیات فراہم کرسکیں۔ازاں بعد  ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے چغتائی لیب کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور لیب کی جدید ترین مشینری کے معیا ر کو سراہا۔تقریب میں دوسروں کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر اے ایس چغتائی ان کی اہلیہ،ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر شوکت وِرک،مسسزعائشہ نذیر،پروفیسر ڈاکٹر ناگی اور صحت کے  سے متعلق ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…