بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کی کفایت شعاری مہم بلڈوز، سرکاری گاڑیوں کا پرائیویٹ استعمال،وسائل اور فنڈز کی بے دریغ طریقے سے بندر بانٹ کا کا انکشاف

datetime 19  جولائی  2019 |

لاہور (آن لائن) وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کفایت شعاری مہم کو بلڈوز کرتے ہوئے سیکرٹری ایل او ایس کامران پرویز کی فرمائش پر ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے عثمان معظم نے ایل ڈی اے پلازہ پراجیکٹ الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ ترامیم کے بعد نئے شیڈول کے تحت سیکرٹری ایل او ایس کا الاؤنس 35 ہزار روپے جبکہ ڈی جی کا ماہانہ الاؤنس 75 ہزار روپے مقرر کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل سیکرٹری 25 ہزار روپے ماہانہ بنیادوں پر وصول کر رہے تھے۔ آتشزدگی کے المناک حادثے کے بعد ایل ڈی اے افسران کے مابین ایل ڈی اے پلازہ کے وسائل اور فنڈز کی بے دریغ طریقے سے بندر بانٹ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ گزشتہ 6 سال کے دوران فنڈز کی کمی کی آڑ میں ایل ڈی اے پلازہ کے دو درجن سے زائد ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا جا چکا ہے۔ مئی 2013ء میں ایجرٹن روڈ پر واقع ایل ڈی اے پلازہ کی عمارت آتشزدگی کا شکار ہو گئی جس کے باعث ادارے کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ایل ڈی اے کے خزانہ سے مختلف منصوبوں کی آڑ میں افسران کے غیر ضروری اخراجات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ سیکرٹری ایل او ایس کامران پرویز نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایل او ایس کی 3 عدد قیمتی گاڑیاں اپنے چہیتے افسران کو بانٹ رکھی ہیں۔ جن کے ماہانہ لاکھوں روپے کے اخراجات ایل او ایس کے خزانہ سے ادا کئے جا رہے ہیں۔ کامران پرویز نے اپنے اثر و رسوخ کی بناء پر سیکرٹری ایل او ایس کے علاوہ ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر کے عہدہ پر قبضہ جما رکھا ہے۔ کامران پرویز کی ملی بھگت سے ایل او ایس کی ملکیتی گاڑیاں LEJ/2200، LZY/445 اور 2200 ہنڈا نمبری گاڑیاں من پسند اور چہیتے افسران غیر قانونی طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ مذکورہ گاڑیوں کا پرائیویٹ استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ کامران پرویز نے ایل او ایس کے کرپشن سکینڈل کو تحفظ دینے کے لئے ایل ڈی اے پلازہ پراجیکٹ الاؤنس کے نام پر ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے کو بھی اپنے منصوبوں میں شامل کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…