اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

اہم ریاستی ادارے حکومت کیساتھ !عمران خان کو پاکستان کی تاریخ کا خوش قسمت ترین وزیراعظم کیوں قرار دیدیا گیا

datetime 19  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر کالم نگار و اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ عمران خان پاکستانی تاریخ کے خوش قسمت ترین وزیراعظم ہیں جبکہ اس کیساتھ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے بدقسمت ترین وزیراعظم ہیں ۔ خوش قسمت اس لیےہیں کہ

وزیراعظم عمران خان کیساتھ ملکی اہم ریاستی ادارے ان کے پیچھے کھڑے ہیں لیکن بدقسمت اس لیے کیونکہ ریاستی اداروں کے بھرپورتعاون کے باوجود وہ عوام مسائل کے حل کیلئے ابھی تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر سکے ۔ جج ویڈیو سکینڈل ان کے لئے مسائل میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب سینئر اینکر پرسن حامد میر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان اس وقت جیلوں میں قید ہیں ۔ شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا ہے ۔ معروف صحافی حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے سنا ہے کہ بلاول بھٹو اور شہباز شریف کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان چاہتے یہی ہیں کہ ساری اپوزیشن جیل چلی جائے تاکہ وہ امریکا کادورہ کر کے واپس پاکستان آئیں تو ان کیخلاف کوئی جماعت احتجاج نہ کر رہی ہو ، اسی لیے وزیراعظم کی کوشش ہو گی کہ اپوزیشن جماعتوں کے جو لوگ باہر رہ گئے ہیں وہ جلد میں ڈال دیئے جائیںجبکہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کیخلاف بھرپور احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…