جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

عالمی عدالت کے فیصلے کو بھارت نے اپنی فتح قرار دے دیا، حیران کن ردعمل

datetime 17  جولائی  2019 |

ہیگ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی جانب سے عالمی عدالت کے فیصلے کو بھارت کی فتح قرار دے دیا گیا، بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے عالمی عدالت کے فیصلے کو قبول کر لیا، واضح رہے کہ بھارت کی صرف قونصلر رسائی کی درخواست ہی منظور کی گئی ہے، اس کے علاوہ کلبھوشن یادیو کی رہائی، فوجی عدالت کی سزا کالعدم قرار دینے کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی ہے اور کلبھوشن یادیو پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا، سشما سوراج نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ

ہم عالمی عدالت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے بارے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں، انہوں نے اپنے ٹوئٹر میں مزید کہا کہ یہ بھارت کی فتح ہے۔ اپنے ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کلبھوشن یادیو کا کیس لڑنے والے ہریش سلوے کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بھارت کی جانب سے عالمی عدالت میں اس کیس کو کامیابی سے پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے پیغام میں نریندر مودی کا بھی شکریہ ادا کیا، انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ یہ فیصلہ اتنی نرمی پیدا کرتاہے کہ کلبھوشن یادیو کے خاندان کے لوگ اب اس سے مل سکیں گے۔ واضح رہے کہ عالمی عدالت کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے رکن ہیں، مقدمے کی تفصیلی شقوں کی جانب نہیں جاناچاہتے، بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگی ہے، جج نے بھارت اور پاکستان کی جانب سے وضعکیا جانے والا موقف بھی بیان کیا۔ جج نے کہا کہ کلبھوشن یادیو انڈین شہری ہے، پاکستان کا موقف ہے کہ ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا اس کے علاوہ پاکستان کا موقف ہے کہ اس کیس میں بھارت کو قونصلر رسائی نہیں دی جا سکتی، جج نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے خلاف مقدمہ اور سزا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی نہیں ہے،کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں دہشت گردی کا مرتکب قرار دے دیا گیا، کلبھوشن یادیو کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ع

المی عدالت نے کہا کہ پاکستان بھارت کو قونصلر رسائی دے، پاکستان کا آئی سی جی پر دائرہ اختیار پر اعتراض مسترد کر دیا گیا، ویانا کنونشن جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا،دہشت گرد کلبھوشن یادیو کی سزا ختم نہیں ہوگی اور وہ پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا۔بھارت کی جانب سے فوجی عدالت کے کلبھوشن یادیو بارے

فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کو بھی عالمی عدالت نے مسترد کر دیا ہے، بھارت کی جانب سے جاری کیا گیا کلبھوشن یادیو کو حسین کے نام کا پاسپورٹ بھی اصلی تھا اور اسی پاسپورٹ سے وہ 17 بار بھارت سے باہر گیا۔ اب کلبھوشن یادیو کا فیصلہ پاکستان میں ہی ہو گا، عالمی عدالت نے واضح طور پر کہا کہ کلبھوشن یادیو کو بھارت کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی عدالت نے کہا کہ پاکستان کی ہائی کورٹ کلبھوشن یادیو کے فیصلے پر نظرثانی کر سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…