منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کی لکھی ہوئی تقریر ایوان میں پڑھی گئی، صدر کے خطاب سے قوم کو مایوسی ہوئی،خورشید شاہ

datetime 4  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی میں قائد حزب سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر ممنون حسین کے خطاب سے قوم کو مایوسی ہوئی ہے صدر نے حکومت کی لکھی ہوئی تقریر ایوان میں پڑھی‘ ان کی جانب سے حکومت اور پارلیمنٹ کی 2 سالہ کارکردگی کی تعریف تعجب کی بات ہے‘ پاکستان بلاول کا گھر ہے مبارکبادیں دینا مناسب بات نہیں۔ جمعرات کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے مشترکہ اجلاسسے صدر ممنون حسین کے خطاب پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ممنون حسین کی تقریر میں عام آدمی کی کوئی بات نہیں کی گئی اور صدر کے خطاب نے عوام کو سخت مایوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ممنون حسین کی تقریر حکومت نے لکھ کر دی تھی جس پر حکومت اور پارلیمنٹ کی 2 سالہ کارکردگی کی تعریف کی گئی ہے جبکہ حکومت اور پارلیمنٹ کی 2 سالہ کارکردگی مایوس کن ہے اور اس حوالے سے حکومت نے قانون سازی کے لئے کچھ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر نے حکومت کی اچھی کارکردگی کا ذکر کیا جبکہ ماضی کی نسبت آج لوڈشیڈنگ زیادہ ہے اور دو گنا تک بڑھ چکی ہے اور صدر ممنون حسین کو یاد نہیں کہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں بجلی کے کئی منصوبے شروع کئے گئے تھے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان بلاول بھٹو کا گھر ہے اس حوالے سے ان کی پاکستان آمد کے موقع پر مبارکبادیں دینا مناسب بات نہیں ہے۔ قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ صدر کی تقریر میں کرکٹ کی بحالی پر بات کرنے پرخوشی ہوئی ہے۔ لیکن لاہور میں ہی 5 میچ کھیلے گئے ہیں اگر دوسرے شہروں میں بھی میچ ہوتے تو اچھی بات ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…