جمعہ‬‮ ، 29 مئی‬‮‬‮ 2026 

اینکر مرید عباس اوردوست خضر کو کس اسلحہ سے گولیاں ماری گئیں؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف

datetime 10  جولائی  2019 |

کراچی(آن لائن)نجی ٹی وی کے نوجوان اینکرپرسن مرید عباس اور ان کے دوست خضرحیات کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا،پوسٹ مارٹم جناح اسپتال میں ڈاکٹر شہزاد علی نے کیا۔ پوسٹ مارٹم میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتول مرید عباس کو 4 گولیاں ماری گئیں جو کہ سینے،کمر اور ہاتھ پر لگیں۔

تاہم مقتول کی موت سینے پر گولیاں لگنے سے ہوئی۔جبکہ ان کے دوست حضر کو کو 3 گولیاں ماری گئیں جو ان کی کمر،سینے اور ران پر لگیں۔ ان کی موت کی وجہ بھی سینے میں لگنے والی گولی تھی۔ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ دونوں کو ایک ہی اسلحے سے گولیاں ماری گئی، اس سے قبل مرید عباس اور ان کے دوست خضر کی نمازہ جنازہ شاہراہ فیصل پر واقع چھیپا مرکز پر ادا کی گئی، نمازہ جنازہ میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد مرید عباس اور دوست خضر کی میتوں کو تدفین کیلئے آبائی علاقوں کو روانہ کردیا گیا تھا۔مرید عباس کی تدفین میانوالی پپلیاں اور خضر حیات کو جھنگ میں سپرد خاک کیا جائیگا۔واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان بخاری میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں نجی ٹی وی چینل کے اینکر مرید عباس اور ان کے دوست خضر جاں بحق ہوگئے تھے، مرید عباس کی اہلیہ نے قتل کا الزام عاطف زمان نامی بزنس مین پر لگایا تھا۔ عاطف زمان نے بعد میں خود کو بھی گولی مار دی تھی جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی جائے وقوع پر عاطف زمان کو اسلحے کیساتھ جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔مرید عباس کی اہلیہ کے مطابق عاطف زمان نے مقتول کے 50 لاکھ روپے دینے تھے تاہم پیسے دینے کے بجائے وہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔جبکہ وقوعے کے روز عاطف نے فون کرکے مرید کو بلایا تھا۔دوسری جانب پولیس واقعے کی تفتیش کررہی ہے۔پولیس کا کہنا ابتدائی طور پرواقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہورہا ہے۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…