جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بے نامی زمینوں کیخلاف کارروائی،حکومت سارے کام (برے) نہیں کر رہی،سٹیٹ کو اپنی رٹ ضرور دکھانی چاہیے لیکن۔۔! اپوزیشن بادشاہوں کو درمیان میں کیوں لا رہی ہے اوربادشاہ ”مجرموں“کی سفارش کیوں کر رہے ہیں؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 3  جولائی  2019 |

آپ کو یاد ہو گا1990ء میں عراق نے کویت پر قبضہ کر لیا تھا‘ قبضے کے بعد ہم جیسے ملکوں کو صدام حسین میں سلطان صلاح الدین ایوبی نظر آنے لگا تھا لیکن پھر کیا ہوا‘سات ماہ بعد عراق کویت خالی کرنے پر بھی مجبور ہو گیا اور تاوان جنگ ادا کرنے اور کویت کا نقصان برداشت کرنے پر بھی‘ اس وقت ایک سیاسی فلاسفی سامنے آئی تھی‘ ہولڈ فلاسفی‘ اس فلاسفی کا مطلب تھا دنیا میں کسی ملک‘ کسی چیز پر قبضہ اہم نہیں ہوتا‘

یہ اہم ہوتا ہے کہ آپ اس قبضے کو کتنا عرصہ ہولڈ کر سکتے ہیں‘ہولڈ کرنا ا ہم ہوتا ہے‘ ہماری حکومت سارے کام برے نہیں کر رہی‘ آج حکومت نے ایمنسٹی ختم ہوتے ہی بے نامی زمینوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی‘ ن لیگ کے سینیٹر چودھری تنویر کی چھ ہزار کنال بے نامی زمین کی ضبطگی کا عمل شروع ہو گیا‘ کراچی میں آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کے اربوں روپے کے اثاثے بھی ہولڈ کر لیے گئے ہیں اور آپ آنے والے چند گھنٹوں میں ملک کے پچاس شہروں سے اسی قسم کی رپورٹیں بھی سنیں گے‘ یہ بہت اچھا قدم ہے‘ سٹیٹ کو اپنی رٹ ضرور دکھانی چاہیے لیکن سوال یہ ہے سٹیٹ ان پراپرٹیز کو کتنی دیر ہولڈ کر سکے گی‘ یہ عدالتوں میں کیسے بے نامی ثابت ہوں گی اور اگر یہ ثابت بھی ہوگئیں تو حکومت ان پراپرٹیز کا کرے گی کیا‘ کیا یہ انہیں نیلام کر سکے گی‘ کہیں یہ نہ ہو جائے حکومت کو یہ پراپرٹیز بھی نہ ملیں اور ان پر قانونی کارروائیوں پر ریاست کے اربوں روپے بھی خرچ ہو جائیں‘ کہیں ایسا نہ ہو جائے عراق کی طرح ریاست کل کو یہ پراپرٹیز واپس کرنے پر بھی مجبور ہو جائے اور آج کے ملزموں کو جرمانہ بھی ادا کرے‘ آپ یہ پراپرٹیز ضرور ہولڈ کریں لیکن انہیں ٹھکانے لگانے کا بندوبست بھی ضرور کر لیں۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر این آر او نہ دینے کا اعلان کر دیا‘ اپوزیشن بادشاہوں کو درمیان میں کیوں لا رہی ہے اوربادشاہ مجرموں کی سفارش کیوں کر رہے ہیں‘ اور وزیراعظم نے ایک بار پھر جیلوں سے اے اور بی کلاس ختم کرنے کا اعلان کر دیا، کیا یہ ممکن ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…