جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پاکستان بھارت سے تنازعات کے حل کیلئے روس سمیت کی بھی ثالثی کیلئے تیار ہے، وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کا حل بتا دیا

datetime 13  جون‬‮  2019 |

بشکک (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل کیلئے روس سمیت کسی کی بھی ثالثی کے لیے تیار ہے، جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا، ہم خطے میں امن چاہتے ہیں،پاک بھارت تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کشمیر ہے جسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، امید ہے موجودہ بھارتی وزیر اعظم اس مسئلہ کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ کرغزستان کے موقع پر

غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب ہمارے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوتے ہیں تو ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں جنگ سے کسی کو بھی فائدہ نہیں ہو گا۔ نہوں نے کہاکہ اس سے قبل ہماری بھارت سے تین جنگیں ہو چکی ہیں جس سے دونوں ہی ملکوں کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کشمیر ہے جسے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور اگر دونوں حکومتیں مسئلہ کشمیر حل کرنے کا تہیہ کر لیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم بھارت کو قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں تاہم ہمیں امید ہے کہ موجودہ بھارتی وزیر اعظم اس مسئلہ کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک نے ہمیں نئی آؤٹ لٹس تک رسائی فراہم کی ہے اور یقینا اب اس میں بھارت بھی شامل ہے جس سے ہم ہمارے دو طرفہ تعلقات انتہائی کمزور ہیں۔انہوں نے کہاکہ برصغیر میں بہت زیادہ غربت ہے جس کے خاتمے کیلئے ہمیں ہتھیاروں کے بجائے انسانوں پر پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے، جیسے چین نے غربت کے خاتمے کے لیے اپنی عوام پر رقم خرچ کی اور وہاں سے آج غربت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ مغرب سے بہتر تعلقات استوار کرنے پر زور رہا ہے تاہم اب ہم نئی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے ہم شنگھائی تعاون تنظیموں کے ممالک سے تعلقات مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…